اتوار، 16 اکتوبر، 2022

The reality of women

 google.com, pub-3404148137114699, DIRECT, f08c47fec0942fa0


رسول اللہﷺ نے عورتوں سے خطاب میں فرمایا کہ "عورتیں جہنم میں مردوں سے زیادہ ہونگی"۔ اس پر خواتین نے پوچھا، کیوں! تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ "شوہر کی ناشکری کرتی ہے"۔ کیسے ناشکری کرتی ہیں ؟ مرد ساری زندگی بیوی کو کِھلاتا ہے پلاتا ہے۔ آج کوئ مرد بیوی کو چھوڑ دے تو بیچاری کا کیا پُرسانِ حال ہوتا ہے ہمارے معاشرے میں۔

شوہر بیوی کو گھر لیکر دیتا ہے۔ گیس بجلی کا بِل شوہر بھرتا ہے، بیوی کو عزت کی چھت مہیا کی ہوئ ہے۔ بیوی کو تحفظ دیا ہوا ہے اسکی اولاد کا ہمیشہ کے لیۓ محافظ بنا۔ یعنی اتنے بڑے بڑے انعامات و احسانات۔ اور کِسی دن شوہر سے  تھوڑی سی اونچ نیچ ہوجاۓ کہ تنخواہ کم ہوگئ بیچارے کی۔ گھر پر گوشت نہیں لاپارہا ہے۔ سبزیوں پر گذارا کروارہا ہے۔ ناشتے میں انڈے کا انتظام نہیں کرسکا کہ بیگم آج بغیر ناشتے کہ رہ لو آج کے دن ناشتہ نہیں کرتے تنخواہ میری تھوڑی کم ہوگئ ہے۔

تو نبیﷺ نے فرمایا کہ کبھی کچھ ہوجاۓ نا تو عورت طعنہ ایسا دیتی ہے کہ میں نے کبھی بھی آپ سے خیر نہیں دیکھی۔

سب عورتیں نہیں لیکن بہت سی عورتیں یہ کام کرتی ہیں کہ شوہر کو کہتی ہیں میں نے آپ سے کبھی خیر نہیں دیکھی۔ میں اس گھر میں آئ ہوں مجھے ملا ہی کیا ہے۔

یعنی ہمارے مسلم معاشرے میں مرد تو بیوی کو بہت زیادہ تحفظ دیتا ہے۔ کس طرح باپ اپنی بیٹیوں کے لیۓ رشتے تلاش کر رہے ہوتے ہیں کہ کوئ اچھا آدمی مل جاۓ۔ اور پھر عورتیں طلاق سے ڈرتی بھی ہیں۔ کہتی ہیں طلاق دیکر مجھ پر ظلم کردیا مجھ پر یہ کردیا۔

حالانکہ طلاق دیکر مرد نے اپنے آپ سے جدا کردیا نا تو پھر رو کیوں رہی ہو ؟ اسکا مطلب وہ اگر تمہیں طلاق نہ دیتا اپنے ساتھ رہی رکھتا تو احسان تھا اس شوہر کا کہ اس نے تمہیں عزت کا ٹھکانا دیا ہوا ہے۔ اور طلاق کو غلط سمجھا جاتا ہے معاشرے میں اس لیے کہ مرد نے جو تمام تحفظات عورت کو دیے ہوۓ تھے وہ چھین لیے گۓ ہیں۔ تو اس میں نقصان عورت کا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا ؟

لہذا شوہر کے اتنے احسانات کا بدلہ عورت ایک لمحے میں بھلا کر شوہر کی ناشکری کرتی ہے۔ ایسی عورتوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔


   بیوی سے اچھے سلوک پر ہوئ مغفرت

ایک عورت سے کھانے میں نمک تیز ہوگیا، شوہر کھانے کے لئے بیٹھا تو اتنا تیز نمک دیکھ کر اسے غصہ آگیا، غریب آدمی تھا چھ ماہ بعد مرغی کا گوشت لایا تھا، چھ ماہ سے دال سبزی کھا کھا اس کی زبان گوشت کھانے کے لئے بے چین تھی مگر بیوی نے نمک تیز کرکے سارا سالن خراب کردیا ...
اس نے بیوی کو کچھ نہ کہا چپ چاپ کھا لیا اور کہا اے اللہ اگر میری بیٹی سے نمک تیز ہوجاتا تو میں یہ پسند کرتا کہ میرا داماد اسے معاف کردے، میرے جگر کے ٹکڑے کو کچھ نہ کہے، میری بیوی بھی تو کسی کے جگر کا ٹکڑا ہے، کسی ماں باپ کی بیٹی ہے، اور سب سے بڑھ کر تیری بندی ہے، ائے خدا میں اسے تیری رضا کے لیے معاف کرتا ہوں ۔...
کچھ عرصہ بعد جب اسکاانتقال ہوگیا تو ایک اللہ والے نے اسے خواب میں دیکھا اور پوچھا بھائی تیرے ساتھ کیا معاملہ ہوا، اس نے جواب دیا کہ مجھے اللہ کے سامنے پیش کیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے میرے گناہ گنوائے کہ تو نے فلاں گناہ کیا فلاں گناہ کیا، میں نے سمجھ لیا کہ میں اب ان گناہوں کی وجہ سےجہنم میں جاؤں گا ۔...
 لیکن اللہ نے آخر میں فرمایا کہ جاؤ میں نے تمہیں اس وجہ سے معاف کیا کہ تم نے اپنی بیوی کو اس دن میری بندی سمجھ کر معاف کیا تھا جس دن اس سے نمک تیز ہوا تھا، تو نے اسے گالی نہیں دی تھی، ڈنڈا نہیں مارا تھا، تم نے اس کی خطا میری رضا کے لیے معاف کی تھی تو آج میں تم کو معاف کرتا ہوں...
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا مفہوم ہے کہ تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہے اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ تم میں سے سب سے اچھا ہوں...
*ہمارا اپنے گھر والوں کے ساتھ کیا سلوک ہے ، ہم سب اپنا اپنا حال جانتے  ہیں ، اگر کچھ کمی کوتاہی ہے تو یہ ہمارے لیے سوچنے کی بات ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں...*






google.com, pub-3404148137114699, DIRECT, f08c47fec0942fa0

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں