google.com, pub-3404148137114699, DIRECT, f08c47fec0942fa0
رسول اللہﷺ نے عورتوں سے خطاب میں فرمایا کہ "عورتیں جہنم میں مردوں سے زیادہ ہونگی"۔ اس پر خواتین نے پوچھا، کیوں! تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ "شوہر کی ناشکری کرتی ہے"۔ کیسے ناشکری کرتی ہیں ؟ مرد ساری زندگی بیوی کو کِھلاتا ہے پلاتا ہے۔ آج کوئ مرد بیوی کو چھوڑ دے تو بیچاری کا کیا پُرسانِ حال ہوتا ہے ہمارے معاشرے میں۔
شوہر بیوی کو گھر لیکر دیتا ہے۔ گیس بجلی کا بِل شوہر بھرتا ہے، بیوی کو عزت کی چھت مہیا کی ہوئ ہے۔ بیوی کو تحفظ دیا ہوا ہے اسکی اولاد کا ہمیشہ کے لیۓ محافظ بنا۔ یعنی اتنے بڑے بڑے انعامات و احسانات۔ اور کِسی دن شوہر سے تھوڑی سی اونچ نیچ ہوجاۓ کہ تنخواہ کم ہوگئ بیچارے کی۔ گھر پر گوشت نہیں لاپارہا ہے۔ سبزیوں پر گذارا کروارہا ہے۔ ناشتے میں انڈے کا انتظام نہیں کرسکا کہ بیگم آج بغیر ناشتے کہ رہ لو آج کے دن ناشتہ نہیں کرتے تنخواہ میری تھوڑی کم ہوگئ ہے۔
تو نبیﷺ نے فرمایا کہ کبھی کچھ ہوجاۓ نا تو عورت طعنہ ایسا دیتی ہے کہ میں نے کبھی بھی آپ سے خیر نہیں دیکھی۔
سب عورتیں نہیں لیکن بہت سی عورتیں یہ کام کرتی ہیں کہ شوہر کو کہتی ہیں میں نے آپ سے کبھی خیر نہیں دیکھی۔ میں اس گھر میں آئ ہوں مجھے ملا ہی کیا ہے۔
یعنی ہمارے مسلم معاشرے میں مرد تو بیوی کو بہت زیادہ تحفظ دیتا ہے۔ کس طرح باپ اپنی بیٹیوں کے لیۓ رشتے تلاش کر رہے ہوتے ہیں کہ کوئ اچھا آدمی مل جاۓ۔ اور پھر عورتیں طلاق سے ڈرتی بھی ہیں۔ کہتی ہیں طلاق دیکر مجھ پر ظلم کردیا مجھ پر یہ کردیا۔
حالانکہ طلاق دیکر مرد نے اپنے آپ سے جدا کردیا نا تو پھر رو کیوں رہی ہو ؟ اسکا مطلب وہ اگر تمہیں طلاق نہ دیتا اپنے ساتھ رہی رکھتا تو احسان تھا اس شوہر کا کہ اس نے تمہیں عزت کا ٹھکانا دیا ہوا ہے۔ اور طلاق کو غلط سمجھا جاتا ہے معاشرے میں اس لیے کہ مرد نے جو تمام تحفظات عورت کو دیے ہوۓ تھے وہ چھین لیے گۓ ہیں۔ تو اس میں نقصان عورت کا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا ؟
لہذا شوہر کے اتنے احسانات کا بدلہ عورت ایک لمحے میں بھلا کر شوہر کی ناشکری کرتی ہے۔ ایسی عورتوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں