نفسیات میں سب سے اہم اور خطرناک ترین قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ آپ جس چیز کے بارے میں سوچیں گے وہ آپ کی طرف متوجہ ہو گی اور اس قسم میں دماغ ایک مقناطیس کی طرح کام کرتا ہے
آپ کو فاصلوں کا پتہ نہیں ہے نہ اوقات اور مقامات کا پتہ چلتا ہے
مثال کے طور پر اگر آپ کسی شخص کے بارے میں سوچتے ہیں اور وہ آپ سے ہزاروں میل دور ہو تب بھی آپ کی مقناطیسی قوت اس تک پہنچ کر آپ کی طرف لوٹ جائے گی اور اسکو آپکی طرف متوجہ ضرور کرے گی
یہی وجہ تو ہے کہ بارہا ایسا ہوتا ھے آپ کسی شخص کو یاد کر رہے ہوں
اچانک وہ اپکے سامنے اجاتا ہے
یا آپ کسی کو سوچتے ہیں تو اس کی کال یا میسج آ جاتی ھے
یا آپ کوئی بات سوچ رہے ہوتے ہیں تو سامنے والا وہی بات کر دیتا ہے اور آپ کہتے ہیں ابھی میں بھی یہی کہنے والا تھا
انسان ایک مقناطیس کی طرح ہے
یہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور بعض اوقات ایسے واقعات رونما ہوجاتے ہیں جو اس کے سوچنے کے انداز کے مطابق ہوتے ہیں یعنی جیسا سوچا ویسا ہو جاتا ھے
انسانوں میں مقناطیسی قوت کم زیادہ ہوتی ہے
اس کا مطلب ہے کہ انسان اپنے لاشعوری دماغ میں موجود غیر مرئی برقی مقناطیسی لہروں کے ذریعے اپنے اردگرد کے واقعات لوگوں اور حالات کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے
اور جو مقناطیسی قوت زیادہ رکھتا ھے اسکے ارد گرد لوگوں کا رش زیادہ ہوتا ھے اور اس سے محبت کرنے والے کثیر ہوتے ہیں
اور یہ بھی یاد رکھیں کہ تمام منفی واقعات و مسائل یا مثبت واقعات آپ کے گرد منڈلا رہے ہیں
کیونکہ آپ خود انہیں اپنی سوچ کے ذریعے اپنی طرف متوجہ کرنے کا سبب ہیں
اپنے آپ کو ایک مثبت انسان بنائیں تاکہ آپکے ارد گرد مثبت ماحول پیدا ہو اور اچھا معاشرہ تشکیل پائے،،،
اس کا کچھ تعلق روحانیات سے بھی
کچھ کو مقناطیسی قوت پیدائشی ملتی ہے
کچھ لوگ ریاضت کر کے پیدا کرتے ہیں
ایمان والوں کے لیئے کعبہ میں کشش ہے تبھی تو پروانہ وار دوڑے جاتے ہیں
اور گنبد خضراء میں زیادہ کشش ہے تبھی تو کروڑوں کا دل اسی نام سے دھڑکتا ھے
نوٹ
اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے
ازواجی تعلقات میں بوسہ دینے کی اہمیت😘
بعض چیزوں سے ازدواجی زندگی ہمیشہ سرسبز وشاداب رہتی ہے جن میں سے ایک بوسہ دینا بھی ہے۔
بوسے میں قدرت نے محبت اور اپنائیت کے وہ جذبات رکھے ہیں کہ ہزاروں باتیں ایک طرف اور محبت سے دیا گیا بوسہ ایک طرف رکھ دیا جائے تو بوسے کے سامنے ساری باتیں پھیکی نظر آئیں گی۔
شادی کے بعد کی زندگی میں میاں بیوی کے درمیان ویسے تو قربت میں سب کچھ ہوتا ہے مگر بوسے کو اہم نہیں سمجھا جاتا۔
میاں جب دفتر جانے لگے تو بیوی اگر ایک بوسہ دے دے، چاہے ہاتھوں پر دے اور اگر شوہر بیوی کو دے تو سارا دن کتنا خوبصورت گزرتا ہے۔
بوسے کو جادوئی تاثیر حاصل ہے۔ ساری غلط فہمیاں ساری رنجشیں ایک بوسے سے یوں دور ہوجاتی ہیں جیسے خوشبو کی مہک ہر طرف ماحول کو خوشگوار کردے۔
بوسہ میاں بیوی کے رشتے کو کبھی زنگ نہیں لگنے دیتا نہ ہی کبھی ہونٹوں کو زنگ لگنے دیتا ہے۔ یہ بوسیدگی کے خاتمے کا باعث ہے۔ میاں بیوی کا رشتہ ایک پاکیزہ رشتہ ہے۔ میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں اس لیے اس خوبصورت عادت کو اپنا کر اپنی ازدواجی نجی زندگی کو خوبصورت بنا سکتے ہیں۔
نئے شادی شدہ جوڑے تو اس پر عمل کرتے ہیں، مگر شادی کے کچھ عرصے بعد اس عادت کو لوگ بلاوجہ ترک کر دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ ہی عادت تو ہے جو ہمسفر کو احساس دلاتی ہے کہ اس کی زندگی میں ایک دوسرے کی کتنی اہمیت ہے۔ میاں بیوی کے رشتے کی خوبصورتی یہ ہی ہے کہ اس میں رومینس زندہ رہے۔
رومینس کا بادشاہ بوسہ ہی ہے۔ مگر یہ بوسہ قربت کے لمحات کے بغیر بھی ہونا چاہئے۔ قربت کے لمحات میں تو ایسا ہونا فطری ہے مگر عام زندگی میں بھی اس کی عادت اپنانی چاہئے۔ آتے جاتے چپکے سے بیوی کو بوسہ دینے سے اس کو احساس ہوتا رہے گا کہ وہ کتنی اہم ہے۔
محبت کے نشے میں مرد اور عورت ایک دوسرے کے کردار کا صیحح جائز ہ نہیں لے سکتے۔محبت دوسری طرف سے کسی بھی قسم کے ردعمل کے بغیر چاہے جانے کا نام ہے میں نے پڑھا ہے۔کہ محبت بھاگ دوڑ نہیں ہوتی،سکون ہوتی ہے،دریا نہیں ہوتی۔
جھیل ہوتی ہے۔
آگ نہیں ہوتی اجالا ہوتی ہے۔ سچ بتاؤں کیا ہوتی ہے؟
سچ تو یہ ہے کہ یہ بتانے کی چیز نہیں ہوتی،جیتنے کی چیز ہوتی ہے۔سمجھنے کی چیز نہیں ہوتی ہے۔جاننے کی چیز ہوتی ہے۔جوانی کے جوش میں مرد کو عورت اچھی لگتی ہے۔
اور عورت کا بس دیکھ لینا بھی مرد کو ادا لگتی ہے۔
آپ کی سوچ
اگر آپکو یہ لگتا ہے کہ ہر وہ لڑکی یا عورت جو سوشل میڈیا پر موجود ہے اور گروپ میں کوئی بھی پوسٹ کرتی ہے
یا پھر کسی کی پوسٹ کا جواب دیتی ہے تو، وہ مردوں کی توجہ کی طالب ہوتی ہے
یا انکو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے تو معذرت کے ساتھ آپ شدید ذہنی پستی کا شکار ہیں ۔۔۔۔
زندگی کی الجھنیں مسائل اتنے زیادہ ہیں کہ انہیں بھی کچھ دیر اپنے لئے جینے کا وقت چاہیے ہوتا ہے
جہاں وہ بھی کھل کے سانس لے سکیں اپنی پریشانیوں کو بھلا کر ۔۔۔۔۔
ضروری نہیں کہ جو لڑکی کسی سے پوسٹ یا انباکس میں بات کرے
وہ لڑکی غلط ہو
اچھے گھر سے نہ ہو..
اپنی سوچ کے دائرے کو وسیع رکھا کریں
واٹسپ یا فیس بُک استعمال کرنے سے لڑکی غلط یا بد کردار نہیں بن جاتی
ہمیشہ positive سوچ رکھیے
میں ایسے مرد کو خوش نصیب مانتا ہوں جس کے سینے سے لگ کر عورت روتی ہے اور ایک تحفظ کے احساس کے ساتھ سکون پا لیتی ہے کیونکہ ہر مرد میں اتنا حوصلہ اور ہمت نہیں ہوتا کہ وہ عورت کے آنسو صاف کر کے وہاں مسکراہٹ سجا دے
💕ﺍﻧﺪﮬﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ،
ﺑﮩﺮﺍ ﺳﻨﻨﮯ ﮐﯽ،
ﻟﻨﮕﮍﺍ ﭼﻠﻨﮯﮐﯽ،
ﺍﻭﺭ ﮔﻮﻧﮕﺎ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﺗﻤﻨﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ،
ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺳﻨﺘﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﺘﮯ ﮨﻮ، ﺗﻮ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﭼﯿﺰ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﺑﺠﺎ ﻻﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﺘﯽ ﮨﯿﮟ،؟
اللّٰه ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﺍﺣﺴﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﮑﻤﻞ ﺑﻨﺎﯾﺎ،
*ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ، ﺍﻟْﺤَﻤْﺪُ ﻟِﻠَّﻪِ*💕
💕اس دنیا سے جاؤ گے تو ایک عجیب واقعہ ہوگا یا تو تم ایک قید خانے سے چھوٹو گے اور اپنے سامنے کھلی فضا پاؤ گے یا پھر ابھی تم آزاد پھرتے ہو اور یہاں سے نکلتے ہی ایک قید خانے میں چلے جاؤ گے
ایک قید ضروری ہے خواہ یہاں کاٹ لو یا وہاں
یہاں عمل اور بندگی کی قید ہے اور چند دنوں کی بات ہے، وہاں بے بسی اور جہنم کی قید ہے البتہ وہاں کے دن بہت لمبے ہیں.
چاہو تو یہاں کاٹ جاؤ اور چاہو تو وہاں جہاں کٹے گی نہیں
مرضی تمہاری ہے💕
goldenlifequote.blogspot.com
Reality of life۔ ( زندگی کی حقیقت )
جمعہ، 17 مارچ، 2023
The magnetic force in Human
بدھ، 8 مارچ، 2023
Courage. (جسارت)
جسارت
ابا جان! آپ اللہ کی حفاظت میں اور میرے دل میں ہو
بابا الف-
ترکی کے جنوبی شہر غازی عنتاب اور سرحد پار شام میں چھے فروری کی صبح 7.8شدت کے زلزلے میں خبروں کے مطابق 28ہزار سے زائد افراد اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی رحمت میں چلے گئے ہیں۔ وہاںسے آمدہ خبریں سنیں تو سرکارؐ کا فرمان یاد آگیا۔ صہیبؓ سے مروی ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’مومن کی بھی کیا ہی صورتحال ہے۔ اس کے ہر معاملے میں خیر ہے۔ یہ معاملہ مومن کے سوا کسی کے ساتھ نہیں۔ اگر مومن کو خوشی ملے تو وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے اور اس میں اس کے لیے خیر ہے۔ اگر مومن پر مصیبت آن پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے اور اس میں اس کے لیے خیر ہے‘‘۔ اسلام سے بڑھ کر خیر کیا ہوسکتا ہے کہ حواس معطل کردینے والے ایسے سانحے میں بھی انسان اپنے رب سے جڑا رہے۔ کھرمان کے شہر میں ایک شخص کو ملبے کے نیچے سے نکالا گیا تو نکلتے ہی سب سے پہلے اس نے وضو کے لیے پانی مانگا کہ کہیں اس کی نماز قضا نہ ہوجائے۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر۔ چار روز کے بعد ایک شامی بچی کو ملبے سے نکالا گیا تو زخموں سے چور نیم بے ہوشی کے عالم میں بھی اس کے ہونٹوں پر ایک ہی پریشانی تھی ’’الٰہی میرا کیا بنے گا کتنے دن ہوگئے نماز نہیں پڑھی‘‘ غازی عنتاب میں ایک خاتون کو ملبے تلے سے نکالا جارہا تھا تو اس ذی قدر خاتون نے باہر نکالے جانے سے پہلے سرڈھا نپنے کا مطالبہ کیا تاکہ نا محرم اس کو بے حجاب نہ دیکھ لیں۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر۔ ایک بزرگ ترک خاتون کے سارے بچے، پوتے پوتیاں، پورا خاندان زلزلے کی نذر ہوگیا۔ عمر کے اس آخری حصے میں مصائب سہنے کے لیے وہ تنہارہ گئی لیکن کوئی دکھ کوئی ملال نہیں، رونا پیٹنا نہیں۔ ترک صدر سے مخاطب ہوکر وہ کہہ رہی ہیں ’’میں نے کوئی چیز نہیں کھوئی اس لیے کہ ہم نبی کریمؐ سے محبت کرتے ہیں‘‘۔ ادلب میں معصوم بیٹا ملبے میں دبا ہوا ہے۔ جسم کا ایک حصہ ہوا میں لٹکا ہوا ہے۔ اس موقع پر باپ اگر بیٹے کو کوئی تلقین کررہا ہے تو وہ کلمہ پڑھنے کی ہے اور بچہ بھی کلمے کا ورد کررہا ہے۔ ترکی کے محمد حبیب تقریباً چھے دن ملبے تلے دبے رہے۔ ایسے میں ان کا کوئی دمساز اور رفیق تھا تو اللہ کا کلام، قرآن مجید۔ شام کی تسنیم الخباز نے تین دن پہلے ہی حفظ قرآن کی تکمیل کی تھی۔ آخری لمحوں میں انہیں کسی چیز کی حفاظت کی فکر تھی تو حفظ قرآن کی سند کی۔ ملبے تلے دبی تسنیم کی لاش کے ساتھ کچھ برآمد ہوا تو یہی حفظ قرآن کی سند۔ ترکی کے ایک فوجی جوان کو ایک سو چار گھنٹے بعد ملبے سے نکالا گیا تو وہ ہوش میں نہیں تھا۔ بے ہوشی کے عالم میں بھی اس کی زبان سے سورۃ البقرہ کے آخری رکوع کی تلاوت جاری تھی۔ چار دن بعد ملبے سے نکلنے والی بچی یہ اسلامی ادب نہیں بھولی کہ باہر نکلتے ہی اس کی پہلی صدا ’’السلام علیکم‘‘ تھی۔
حلب کے قریبی علاقے جندیرس کے رہائشی ناصر الو کاع کی داستان الم بڑی ہی جگر پاش ہے۔ ان کے بیش تر اہل خانہ زلزلے کی نذر ہوگئے۔ وہ گھر میں نہیں تھے اس لیے بچ گئے۔ صبح آئے تو گھر ملبے کا ڈھیر تھا جس کے تلے دبے ہوئے بچوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ رضا کاروں کی مدد سے ناصر کسی نہ کسی طرح دو بچوں کو نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔ تاہم بیوی سمیت باقی پانچ بچوں کو نہ نکال سکے۔ ناصر کو ان کی آوازیں آتی رہیں۔ آہستہ آہستہ جن میں کمزوری آتی گئی۔ بالآخر یہ آوازیں خاموش ہوگئیں۔ ناصر ملبے پر بیٹھا بے بسی سے انہیں آوازیں دیتا رہا۔ جب ملبہ ہٹایا گیا تو سب شہید ہوگئے تھے۔ ناصر کی بڑی بیٹی ھبۃ نے شہادت سے پہلے باپ کے نام ایک خط لکھا تھا جو اس کی گود میں پڑا تھا۔ خط میں جو کچھ تحریرتھا باپ سے بیٹی کی محبت کا وہ ایک ایسا استعارہ اور مثال ہے کہ دنیا کا کوئی ادب پارہ اثر آفرینی میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ خط میں لکھا تھا ’’الٰہی میں اپنا سب سے قیمتی اثاثہ (والد) تیرے پاس امانت رکھ رہی ہوں، میرے لیے اس کی حفاظت فرما۔ ابا جان! آپ اللہ کی حفاظت میں اور میرے دل میں ہیں‘‘ (الجزیرہ)
زلزلے کی اندوہناک ساعتوں میں بھی میرے رب کی قدرت نے ہر چیزکا احاطہ کیا ہوا تھا۔ موت اور زندگی کا بھی۔ وہ جسے چاہے موت دے اور جسے چاہے زندگی۔ اللہ کی قضا حتمی ہے۔ سات اعشاریہ آٹھ شدت کے زلزلے کی بھی مجال نہیں کہ زندگی سے سانسیں چھین لے۔ تکبیر کی صدائوں سے ضلع عفرین گونج اٹھا جب ایک نو مولود بچی کو ملبے سے نکالا گیا جس کی پیدائش زلزلے کے دوران ہوئی اور اس کی ماں ملبے تلے دب کر مرگئی۔ انطاکیہ کی پانچ سالہ ننھی پری ’’بازل ارنجر‘‘ 72گھنٹے بعد بھی ملبے سے اس طرح سلامت نکل آئی کہ وہ سونے کی طرح دمک رہی تھی۔ ایک سو اٹھائیس گھنٹے بعد بھی دو مہینے کا بچہ ملبے سے زندہ سلامت باہر نکال لیا گیا۔ اس عمر کا بچہ دو گھنٹے بھی دودھ نہ پیے تو بھوک سے نڈھال ہو جائے لیکن یہ بچہ ایسا تازہ دم تھا جیسے ابھی ابھی اس کا پیٹ بھرا ہو۔ اسی طرح ایک ماہ کا بچہ 120 گھنٹے ماں سے الگ بغیر دودھ اور کسی غذا کے زندہ سلامت ملبے سے نکل آیا۔ ترکی کا آٹھ سالہ بچہ 152 گھنٹے بعد بھی زندہ سلامت نکال لیا گیا۔
امت مسلمہ کو ایک متروک تصور باور کرایا جاتا ہے لیکن کوئی سانحہ ایسا نہیں گزرتا جب مسلمان یہ ثابت نہ کرتے ہوں کہ وہ ایک امت ہیں۔ ایک پاکستانی بزنس مین امریکا میں ترک سفارتخانے میں داخل ہوا اور خاموشی سے 30ملین ڈالرز (8ارب روپے سے زائد) دے کر چلا گیا۔ نہ نام بتایا اور نہ ہی کوئی شناخت ظاہر کی۔ امیر قطر دنیا کے پہلے حکمران ہیں جو ترکی پہنچے۔ پہنچنے سے پہلے وہ دس ہزار تیار مکانات اور 168ملین قطری ریال کی نقد امداد ترکی بھیج چکے تھے۔ برطانیہ سے محترم یوسف چمبرز اسلامک ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹرکے بانی، مسلم ایڈ، جمعہ میگزین اور اسلام چینل سے وابستہ اپنی ٹیم کے ساتھ انطاکیہ میں زلزلہ زدگان کی خدمت میں مصروف ہیں۔ قطر میں ’’عون وسند‘‘ کے عنوان سے 16کروڑ ریال یعنی گیارہ ارب روپے اور کویت میں ’’الکویت۔ بجانبکم۔۔ کویت تمہارے ساتھ‘‘ دوکروڑ دینار یعنی 65ملین ڈالر (ساڑھے سترہ ارب روپے) جمع ہوچکے ہیں۔ ایک لاکھ 29ہزار 28 کویتیوں نے اس کار خیر میں حصہ لیا۔ عراقی مسلمان اگرچہ خود بھی مشکل ترین حالات سے گزر رہے ہیں لیکن ترک بھائیوں کی امداد کے لیے انہوں نے جو کچھ بھیجا وہ بہت متاثر کن ہے۔ آزر بائیجان میں جگہ جگہ ترک بھائیوں کی امداد کے لیے سامان جمع کرنے کے لیے کیمپ لگے ہوئے ہیں ایک آذری شہری کا جذبہ کمال تھا جو دارالحکومت باکو سے اپنی پرانی سی کار میں سامان لاد کر ترکی کے لیے روانہ ہوگیا۔ قطر میں ایک مقامی شہری نے زلزلہ زدگان کے لیے ایک ملین ریال (7کروڑ 89لاکھ 94ہزار روپے) ہدیہ کیے۔ آخر میں اس ترک دکاندار کا ذکر جس نے اپنا پورا سپر اسٹور خالی کروایا کہ جائو سب کچھ اہل وطن زلزلہ متاثرین کے لیے لے جائو میرے لیے ایک سوئی بھی مت چھوڑو۔ اسلام اور مسلمانوں کا معاملہ عجب ہے۔ مسلمان کیسی ہی ابتر صورتحال سے دوچار ہوجائیں ان کے اندر اسلام موجود رہتا ہے۔ ترکی اور شام میں جہاں جہاں مسلمان اپنے بھائیوں اور بہنوں کو گری ہوئی عمارتوں کے ملبے تلے سے نکال رہے تھے وہ علاقے اللہ کی کبریائی سے گونج رہے تھے۔ مغرب دیکھ لے مسلمانوں میں دین اسلام کی جڑیں کتنی مضبوط ہیں۔
منگل، 7 مارچ، 2023
Think before you speak
Think before you speak
کہنے سے پہلے ذرا سوچ لیجیے ...
چشتیہ سلسلہ کے ایک بزرگ جو مراقبہ کے زریعے لوگوں کے مسائل کی تشخیص اور علاج کرتے تھے, ان کے پاس ایک صاحب آۓ جن کو یہ تکلیف تھی کہ 10 دن سے وہ اپنی پلکیں نہیں جھپکا پا رہے تھے, نہ سو سکتے تھے نہ رو سکتے تھے, تکلیف کی شدت ازیت بن گئی تھی. ڈاکٹروں کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا مسلہ ہے. سب ہاتھ کھڑے کر چکے تھے. اس لیے وہ ان بزرگ کے پاس حاضر ہوے تھے اپنے مسلے کے حل کے لیے اور دعا کروانے کے لیے.
بزرگ نے مراقبہ کیا مگر ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آیا. کافی کوشش کے بعد بھی کچھ سامنے نہ آیا تو مریض کو اگلے دن آنے کا کہا اور اس کا نام اور مسلہ اپنے پاس لکھ لیا.
عصر کے بعد پھر ان صاحب کے مسلے پر بزریعہ مراقبہ غور کیا لیکن سواۓ دھندلے اور نا مکمل تصویری خاکوں کے کچھ سمجھ نہ آیا.
ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ کسی کے متعلق کوئ راہنمائ نہ ملے. ضرور کوئ خاص بات تھی. آپ ذکر اذکار میں مصروف ہو گئے اور اللہ سے خصوصی دعا کہ یہ معاملہ سلجھا دیں.
عشاء کے بعد پھر مراقبہ میں گئے تو دیکھا ایک طرف کچھ ہندو بیٹھے ہیں, دوسری طرف مسلمان. ان مسلمانوں میں وہ شخص بھی بیٹھا نظر آیا جو پلکیں نہیں جھپکا پا رہا تھا. مسلمان اور ہندو دونوں مزاہب کے لوگ اپنے اپنے طریقے سے روزہ افطار کرنے کے لیے بیٹھے تھے.
اس شخص نے اپنے ساتھ بیٹھے فرد سے کچھ کہا جس پر انتظامیہ نے اس شخص کو سزا کے طور پر اٹھایا اور ہندوؤں کے پاس جانے کو کہا. اس کے ساتھ ہی بزرگ کا مراقبہ ختم ہو گیا. کافی دیر غور کرنے کے بعد بات کچھ کچھ سمجھ آنے لگی تھی. اسی بات پر غور کرتے کرتے وہ بزرگ نیند کی أغوش میں چلے گئے.
اگلے دن ضرورت مندوں میں وہ شخص بھی شامل تھا. اپنی باری آنے پر وہ شخص سامنے آ کر بیٹھا تو اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی آی تھی. بزرگ نے خیریت دریافت کرنے کے بعد پوچھا کہ رمضان کے روزے کیسے گزرے آپ کے ؟
"ہمیشہ کی طرح اچھے گزرے اس دفعہ بھی". اس نے جواب دیا.
ہندوؤں کے روزوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟
" میں کچھ سمجھا نہیں" اس نے حیرانی کا اظہار کیا.
لیکن اس کی بیوی کی آنکھیں کسی خیال سے روشن ہو گئیں. شاید اسے بات کچھ سمجھ آ رہی تھی. وہ گویا ہوی
"ایک دن روزوں پر بات ہو رہی تھی تو انہوں نے مذاق میں ایک بات کہی تھی کہ " ہم سے اچھے تو ہندوؤں کے روزے ہیں, وہ پھل کھا سکتے ہیں روزے میں".
بزرگ نے اس شخص کی طرف دیکھا تو اس کا سر جھکا ہوا تھا, اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا.غلطی کا خیال آتے ہی اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور وہ اپنے رب سے گڑگڑا کر معافی مانگنے لگا. کچھ دیر بعد اسے احساس ہوا کہ اب وہ اپنی پلکیں بھی جھپکا رہا ہے.
بزرگ گویا ہوے "دیکھو بیٹا, اکثر ہماری پکڑ ہماری زبان کی وجہ سے ہو جاتی ہے, مذاق مذاق میں کی گئی باتیں کب اللہ کی ناراضی کا سبب بن جائیں ہم نہیں جانتے. ہماری ایسی ہی بے تکلفی میں کی گئی باتیں ہماری پکڑ کی وجہ بن جاتی ہیں.
یہ پکڑ کسی کی جسمانی تکلیف کی صورت میں سامنے آتی ہے اور کسی کے لیے زہنی تکلیف کی صورت میں. کسی کو دلی سکون حاصل نہیں تو کسی کی راتوں کی نیند غائب ہو جاتی ہے. کسی کے رزق سے برکت ختم ہو جاتی ہے تو کسی کے رشتوں میں اختلافات آ جاتے ہیں.
اسلام کی ایک ایک بات اللہ کی مصلحت اور معرفت سے لبریز ہے. اور اللہ کا بتایا ہوا ہر اصول اور حکم قائنات کا بہترین عمل اور اصول ہے. ہم مذاق میں یا بے دیہانی میں کچھ کہہ کر اللہ کے بناۓ ہوے اس اصول کی بےادبی اور گستاخی کے مرتکب ہو جاتے ہیں.
جیسے :
کسی کے لیے فجر کے لیے اٹھنا مشکل ہے تو سوچے سمجھے بغیر کہہ دیا کہ " یہ فجر کی نماز ضروری تھی کیا" استغفر اللہ
کسی لڑکی نے کہہ دیا کہ جو بھی ہو جاۓ میں کسی داڑھی والے سے شادی نہیں کروں گی.
اسی طرح کے کچھ مزید فقرے جوعام طور پر ہمارے مسلمان بھائی بہن بول ڈالتے ہیں۔ جن سے ان کی پکڑ ہو جاتی ہے اور ان کو خبر بھی نہیں ہوتی۔
1۔ جیسے کوئی مصیبت کے وقت کہے۔" اللہ نے پتہ نہیں مصیبتوں کے لئے ہمارا گھر ہی دیکھ لیا ہے"
2۔ یا موت کے وقت کوئی کہہ دے۔"پتہ نہیں اللہ کو اس شخص کی بڑی ضرورت تھی جو اس کواپنے پاس اتنی کم عمر میں بلا لیا"۔
3۔ یا کہا ۔ نیک لوگوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ جلدی اٹھا لیتا ہے کیوں کہ ایسوں کی اللہ عَزَّوَجَلَّ کو بھی ضَرورت پڑتی ہے
4۔ یااللہ ! تجھے بچّوں پر بھی ترس نہیں آیا۔
5۔ االلہ ! ہم نے تیرا کیابِگاڑا ہے! آخِر ملکُ الموت کوہمارے ہی گھر والوں کے پیچھے کیوں لگا دیا ہے
6۔ اچّھا ہے جہنَّم میں جائیں گے کہ فلمی اداکار ئیں بھی تو وہیں ہوں گی نہ مزہ آجائے گا۔
7۔ اکثر لوگ فیس بک پر اس طرح کے لطائف لکھ ڈالتے ہیں۔ یہ بھی کفر ہے۔ جیسے اگر تم لوگ جنّت میں چلے بھی گئے تو سگریٹ جلانے کیلئے تو ہمارے ہی پاس (یعنی دوزخ میں)آنا پڑے گا
8۔ آؤ ظہر کی نماز پڑھیں ، دوسرے نے مذاق میں جواب دیا :یا ر ! آج تو چُھٹّی کا دن ہے ، نَماز کی بھی چُھٹّی ہے ۔
9۔ کسی نے مذاق میں کہا:''بس جی چاہتا ہے یہودی یا عیسائی یا قادیانی بن جاؤں۔ ویزہ تو جلدی مل جاتا ہے نا۔
10۔ صبح صبح دعا مانگ لیا کرو اس وقت اللہ فارِغ ہوتا ہے
11۔ اتنی نیکیاں نہ کرو کہ خُدا کی جزا کم پڑجائے
12۔ خُدا نے تمہارے بال بڑی فرصت سے بنائے ہیں
13۔ ایک نے کہا:یار! ہوسکتا ہے آج بارش ہوجائے۔ دوسرے نے کہا: ''نہیں یار ! اللہ تو ہمیں بھول گیا ہے۔
14۔ کسی نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مذاق اڑایا توکافر ہے۔
15۔ دنیا بنانے والے کیا تیرے من میں سمائی؟
تو نے کاہے کو دنیا بنائی؟ (گانا)
16۔ حسینوں کو آتے ہیں کیا کیا بہانے ۔
خدا بھی نہ جانے تو ہم کیسے جانے (گانا)
17۔ میری نگاہ میں کیا بن کے آپ رہتے ہیں ۔
قسم خدا کی ' خدا بن کے آپ رہتے ہیں ۔ (گانا)
اس طرح کے بے شمار گانے جو ہمارے مسلمان اکثر گنگناتے دیکھائی دیتے ہیں۔
18۔ نَماز کی دعوت دینے پر کسی نے کہا:''ہم نے کون سے گُناہ کئے ہیں جن کو بخْشوانے کیلئے نَماز پڑھیں۔
19۔ایک نے طبیعت پوچھی تو دوسرے نے مذاق کرتے ہوئے جواب دیا: نصْرمِّنَ اللہِ وَ ٹِّھیک ۔ کہہ دیا ۔کہنے والے پر حکم کفر ہے کہ آیت کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔
20۔ رَحمٰن کے گھر شیطان اور شیطان کے گھر رَحمٰن پیدا ہوتا ہے۔
21۔مسلمان بن کر امتحان میں پڑ گیا ہوں۔وغیرہ وغیرہ۔۔
حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے۔
مَنْ یَّضْمَنْ لِّیْ مَا بَیْن لَحْیَیْہِ وَمَا بَیْنَ رِجْلَیْہِ اَضْمَنْ لَّہُ الْجَنَّۃَ۔
(بخاری ۴۱۱)
اللہ پاک ہمیں زبان کی حفاظت اور اس کے صحیح استعمال کی توفیق عطا فرماۓ. آمین
اتوار، 5 مارچ، 2023
Misogyny
اپنے قلب و دماغ کو بدنظری کے تیروں سے زخمی نہ کری
|
بدھ، 1 مارچ، 2023
Verginality and The Best Husband
<script async src="https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-3404148137114699" crossorigin="anonymous"></script>
پردہ بکارت فرج کی سیل کی حقیقت
اللہ رب العزت اس شخص کی روز قیامت گناہوں پر پردہ پوشی فرمائیے گا جو دنیا میں انسانوں کے گناہوں اور غلطیوں پر پردہ ڈالے گا
حساس موضوع لیکن میری بہنوں بیٹیوں کا پریشان کن مسلہ
پردہ بکارت فرج کی سیل کی حقیقت:
اللہ رب العزت نے پردہ بکارت اس لئے نہیں بنایا تھا کہ وہ عورت کے ساتھ ہونے والے زنائی ظلم کو چھپانا نہیں چاہتا یا عورت سے ہونے والے گناہ پر پردہ نہیں ڈالنا چاہتا اللہ کی مغفرت اور رحمت بہت زیادہ وسیع ہے اور اللہ سے گناہ پر توبہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کا بہت قریبی ہے اور ایسے ہے جیسے ابھی ماں کے پیٹ سے آیا ہو بلکل بے گناہ.
اللہ فرماتا ہے ہر انسان گناہ گار ہے مگر اچھا انسان وہ ہے جو توبہ کر لے
اللہ فرماتا ہے گناہوں پر توبہ کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو.
یہ تحریر ہمارے معاشرہ کے ان مردوں کے لئے ہے جو خود کو فرشتہ سمجھتے ہیں اور معافی و در گزر کو گناہ سمجھتے ہیں.
ہماری ہاں پردہ بکارت کے سلسلے میں غلط معلومات کی بھرمار ہے صرف اسی کو کنوارہ پن اور عصمت کی علامت سمجھا جاتا ہے یہ پردہ عورت کی فرج کے سوراخ میں ذرا اندر کی طرف موجود ہوتا ہے اکثر عورتوں کا یہ پردہ نرم و نازک ہوتا ہے اور پہلی بار ہمبستری میں آسانی سے پھٹ جاتا ہے جس سے معمولی تکلیف ہوتی ہے اورکچھ خون بھی نکلتا ہے اور کبھی بلکل خون نہیں نکلتا
بعض عورتوں میں یہ غیر معمولی تکلیف پر سخت ہوتا ہے جو کہ ہمبستری میں رکاوٹ اور تکلیف کا سبب بنتا ہے ، ایسی صورت میں معمولی آپریشن کی ضرورت ہوتی ہے
پردہ بکارت کی موجودگی یا عدم موجودگی کسی بھی طرح عورت کی باعصمت اور با کردار ہونے کا ثبوت نہیں ہے...
بہت سی بچیوں کا یہ پردہ کسی حادثے یا اچھل کود جھولے لینے یا رسہ ٹاپنے کی وجہ سے پھٹ جاتا ہے
کچھ کا ماہواری کے دوران میں پیڈ وغیرہ کے استعمال یا صفائی سے بھی پھٹ جاتا ہے
جب بچیاں کسی رحم یا شرم گاہ کی تکلیف کی وجہ سے ہسپتال جاتی ہیں تو ان بچیوں کا پردہ لیڈی ڈاکٹر چیک ایپ کرتے وقت پھاڑ دیتی ہے اور اس بات کو زہن سے نکال دیتی ہے کہ اس بچی کی ابھی شادی بھی ہونی ہے
بعض خواتین میں یہ سرے سے موجود ہی نہیں ہوتا اور کچھ خواتین کا ہمبستری کے دوران خون اور تکلیف کے بغیر ہی پھٹ جاتا ہے اور بہت سی خواتین میں پیدائش کے بعد فطری طور پر آہستہ آہستہ غائب ہونا شروع ہو جاتا ہے لہذا اس پردے کی عدم موجودگی ہرگز اس بات کا ثبوت نہیں کہ لڑکی بدکار گناہ گار ہے
باکرہ اور چنانچہ اس مسئلے کو کوئی ترجیح نہ دی جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہتریں شوہر کون
• جو اپنی بیوی کے ساتھ نرمی، خوش خلقی اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آئے
• جو اپنی بیوی کے حقوق ادا کرنے میں کسی قسم کی غفلت اور کوتاہی نہ کرے
• جو اپنی بیوی کا اس طرح ہو کر رہے کہ کسی اجنبی عورت پر نگاہ نہ ڈالے
• جو اپنی بیوی کو اپنے عیش و عشرت میں برابر شریک سمجھے
• جو اپنی بیوی پر کبھی ظلم اور کسی قسم کی بے جا زیادتی نہ کرے
• جو اپنی بیوی کی خوبیوں پر نظر رکھے اور معمولی غلطیوں کو نظر انداز کرے
• جو اپنی بیوی کی مصیبتوں بیماریوں اور رنج و غم میں دل جوئی تیمارداری اور وفاداری کا ثبوت دے
• جو اپنی بیوی کو پردہ میں رکھ کر عزت و آبرو کی حفاظت کرے
• جو اپنی بیوی کو ذلت و رسوائی سے بچائے رکھے
• جو اپنی بیوی کو دینداری کی تاکید کرتا رہے اور شریعت کی راہ پر چلائے
• جو اپنی بیوی کے اخراجات میں بخیلی اور کنجوسی نہ کرے
• جو اپنی بیوی پر اس طرح کنٹرول رکھے کہ وہ کسی برائی کی طرف رخ بھی نہ کر سکے.
پیر، 27 فروری، 2023
Compulsion
<script async src="https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-3404148137114699" crossorigin="anonymous"></script>
مجبوری
بھوک اور اولاد اگر سب کرنے پر مجبور کرتی تو آج ہر غریب گھرانے کی خواتین کوٹھے پر طوائفوں کا کردار ادا کرتیں کوئی غریب عورت گھروں میں کام کر کے بچے نہ پالتی لوگوں کے برتن دھو کر صفائی کر کے اینٹوں کے بھٹے پر کام کر کے ٹیکسی چلا کر چھوٹی دکان چلا کر اپنے کمرے میں جنرل سٹور یا چوڑی سٹور لگا کر لیس بیچ کر سلائی کڑھائی کر کے سر پر چوڑیوں کے گچھے رکھ کر گلی گلی گھوم کر سڑکوں کی تعمیر میں اینٹ بجری سیمنٹ اٹھا کر جھاڑو لگا کر مختلف سکولوں میں چند ہزار روپے پر ملازمت کر کے وہ بچے نہ پالتی بلکہ جا کر کوٹھے پر بیٹھ جاتی
غریب غیرت مند بھی ہیں پانچ روپے کیلئے تنگ ہوں تو پانچ سو روپے دور کی بات ہے پچاس ہزار روپے کیلئے بھی جسم نہیں دے گی ہم نے غربت کو لے دے کر جسم فروشی سے جوڑ دیا ہے جسم فروشی ایک انتخاب ہے ورنہ محنت کر کے بچے پالنے والی خواتین ان خواتین کیلئے مشعلِ راہ ہیں جو آسان راستے کا انتخاب کر لیتی ہیں ورنہ مشکلات سے دو چار ہو کر بچے پالنے میں عزت بچ جاتی ہے مانتا ہوں کہ یہ دنیا ظالم ہے اور مشکلات کا سمندر منتظر رہتا ہے لیکن ان حالات میں جینے والے ہی تو کمال کرتے ہیں
..وہ شخص جو اپنا مال دکھاوے کے لئے خرچ کرتا ہے اور وہ اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان ہو جس پر کچھ مٹی ہو، پھر اس پر زور کا مینھ پڑے اور اس کو بالکل صاف کر دے ایسے لوگوں کو اپنی کمائی کچھ ہاتھ نہ لگے گی. 264 البقرہ
جو اپنا مال دکھاوے کے لئے خرچ کرتا ہے
اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کی مثال ایسی پتھر کی چٹان سے دی ہے جس کے اوپر مٹی جم جائے تو بظاہر وہ مٹی دکھائی دے گی. مگر بارش کو جھونکا آتے ہی مٹی کی اوپری تہ بہہ جائے گی اور اندر سے خالی پتھر نکل آئے گا. ایسا ہی حال اس انسان کا ہوتا ہے جو بس اوپری دین داری لئے ہوئے ہو. دین اس کے اندر داخل نہ ہوا ہو.
ایسے آدمی سے اگر کوئی سائل بے ڈھنگے انداز میں سوال کر دے یا کسی کی طرف سے کوئی ایسی بات سامنے آ جائے جو اس کی انا پر ضرب لگانے والی ہو تو وہ بپھر کر انصاف کی حدوں کو توڑ دیتا ہے. ایسا واقعہ ایک ایسا طوفان بن جاتا ہے جو اس کی اوپری "مٹی" کو بہا لے جائے اور پھر اس کا اندر کا انسان سامنے آ جاتا ہے جس کو وہ دین کے ظاہری لبادہ کے پیچھے چھپائے ہوئے تھا.
بدھ، 22 فروری، 2023
Do it today and get it tomorrow
<script async src="https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-3404148137114699" crossorigin="anonymous"></script>
آج کروگے کل پاؤگے
میرا نام جمال حیدر ھے۔ میں فوج میں میجر تھا۔ میرے والد صاحب نے میری ماں کو مار مار کر ان کے کندھے کی ھڈی توڑ دی تھی۔ مناسب علاج نہ کروانے کی وجہ سے ھڈی نے خون سپلائی کرنے والی نالیوں کو نقصان پہنچایا تھا اور خون کی سپلائی بند ھونے کی وجہ سے میری ماں کا بازو بےجان هو کر سوکھ گیا تھا۔ پھر جب میری ماں کو فالج اٹیک آیا اور ان کا دوسرا بازو بھی مفلوج هوگیا تو میں نے اپنی پوسٹ سے استعفیٰ دے کر ماں کی خدمت کا فیصلہ کیا۔ بیوی کی لاکھ کوششوں کے بعد بھی میرا دل مطمئن نہ ھوا اور میں نے استعفیٰ دے دیا ۔۔۔۔۔
میرا تعلق ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ھے۔ میری ماں کی عمر تیرہ برس تھی جب میری نانو کا انتقال ھوا۔ میری نانو کی وفات کے بعد میرے نانا نے میری ماں کی پرورش کا بیڑہ اٹھایا مگر انہیں جلد ھی یقین هوگیا کہ وہ یا تو میری ماں کو کما کر کھلا سکتے ھیں یا پھر ان کے محافظ بن کر گھر بیٹھ سکتے ھیں۔ لہذا جب میری ماں سولہ برس کی عمر کو پہنچی تو میری ماں کا نکاح میرے نانا نے اپنے بھتیجے (میری ماں کے چچا زاد) سے یہ سوچتے ھوئے کر دیا کہ گھر کا دیکھا بھالا لڑکا ھے، میری بیٹی کو اچھی طرح سمجھتا ھے، میرا بھتیجا بھی ھے اس لیے خوش رکھے گا۔ مگر یہ بات میرے نانا کی خام خیالی ھی ثابت ھوئی۔ میرے نانا میری ماں کی شادی کے بعد ڈیڑھ برس زندہ رھے۔ ان ڈیڑھ برسوں میں میری ماں تین بار روٹھ کر اپنے باپ کی دھلیز پر آئی، ھر بار میرے نانا نے اپنے بھائی (میرے دادا) کی منت سماجت کرکے میری |
ماں کو واپس بھجوا دیا ۔۔۔۔۔
ڈیڑھ برس بعد میرے نانا کا انتقال ھوا تو میری ماں بالکل لاوارث هو گئی۔ میرے دادھیال والوں کو کھلی چھٹی مل گئی۔ اب میرے والد محترم کے ساتھ ساتھ میری دادو اور دونوں پھوپھیاں بھی میری ماں کو پیٹنے کا کوئی موقع ھاتھ سے نہ جانے دیتیں۔ یہاں تک کہ ایک بار میرے والد صاحب نے جمعہ کی نماز کے لیے جانا تھا اور میری ماں طبعیت خرابی کی وجہ سے ان کے کپڑے استری کر کے نہ رکھ پائی تو اس بات پر انہوں نے میری ماں کو کپڑے دھونے والے ڈنڈے سے مار مار کر ان کے کندھے کی ھڈی توڑ دی۔ کندھے کی ھڈی توڑنے کے بعد کسی ڈاکٹر تک کو دکھانے کی زحمت نہ کی گئی بلکہ الٹا میری ماں درد سے کراھتی تو اسے اور پیٹا جاتا اور بہانے خور جیسے القابات سے نوازا جاتا یہاں تک کہ مسلسل حرکت میں رھنے کی وجہ سے ٹوٹی ھوئی ھڈی نے انگلیوں اور بازو کو خون سپلائی کرنے والی نالیوں کو بھی کٹ کر دیا۔۔۔۔۔
جب خون سپلائی کرنے والی نالیاں کٹ هو گئیں تو خوں کی سپلائی آھستہ آھستہ انگلیوں تک پہنچنا بند هو گئی اور بازو بےجان هونا شروع هو گیا یہاں تک بازو بےجان هو کر سوکھ گیا اور ساتھ ھی لٹک کر رہ گیا۔ جب میرے دادھیال والوں کو یقین هو گیا کہ میری ماں بالکل مفلوج هو چکی ہئے تو انہوں نے میری ماں پر بدکردار ھونے کا الزام لگا کر اسے طلاق دلوا کر گھر سے نکلوا دیا۔ جب میری ماں کو طلاق دے کر گھر سے نکالا گیا اس وقت میں اپنی ماں کے پیٹ میں سات ماہ کا هو چکا تھا۔ دو ماہ تک میری ماں کو گاؤں کی دائی نے اپنے گھر پناہ دئیے رکھی دو ماہ بعد جب میری پیدائش ھوئی تو میرے دادھیال والوں کو خطرہ پیدا هو گیا کہیں میں ان کی جائیداد نہ ہتھیا لوں اس لیے انہوں نے میری ماں کو دائی کے گھر بلکہ گاؤں سے بھی نکلوا دیا۔ گاؤں سے نکالے جانے کے بعد میری ماں کے پاس اور کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اس لیے میری ماں مجھے کپڑے کی ایک گانٹھ میں لپیٹ کر کبھی دانتوں کی مدد سے کبھی کندھے سے لٹکا کر ٹوبہ ٹیک سنگھ شہر پہنچی اور پہلی رات میری ماں نے مجھے لےکر ایک گوشت والے پھٹے کے نیچے گزاری اور ساری رات میری ماں مجھے گود میں رکھ کر جاگتی رھی تا کہ کوئی آوارہ کتا مجھے چبا نہ ڈالے ۔۔۔۔۔
وقت گزرتا ھے۔ پہلے پہل میری ماں فروٹ والی ریڑھیوں کے آس پاس پڑا گندا فروٹ اٹھا کر اپنا پیٹ بھرتی ھے پھر اللہ تعالیٰ کے بنائے نظام کے ذریعے اس خوراک کو دودھ میں بدل کر میرے لیے خوراک کا بندوبست کرتی ھے اور میرا پیٹ بھرتی۔ جب میری ماں کو بازار میں رھتے کچھ عرصہ گزرتا ھے تو مقامی دوکاندار میری ماں پر اعتبار کرنے لگتے ھیں یوں انہیں دوکانوں میں صفائی کا کام مل جاتا ھے ۔۔۔۔۔۔
دوکانوں میں مجھے اٹھا کر اپنے پیچھے جھولی نما کپڑے میں ڈال کر اپنے پیچھے لٹکانے کے بعد صرف ایک ہاتھ سے صفائی کرنا بہت مشکل هو جاتا اس لیے میری ماں کچھ پیسے جمع کر کے برش پالش اور ہتھوڑی کیل دھاگہ اور سوئے خریدنے کے بعد جوتے سلائی کرنے کا کام شروع کر دیتی ھے۔ میری ماں مجھے گود میں لٹا کر ایک ھاتھ اور منہ کی مدد سے جوتے سلائی کرتی ھے۔ کچھ خدا ترس لوگ میری ماں کو اجرت سے زیادہ پیسے دے جاتے ھیں جبکہ کچھ اوباش نوجوان جان بوجھ سیوریج کی نالی میں جوتا گندا کر کے میری ماں کو پالش کرنے کے لیے دیتے ھیں اور جب اس جوتے کو منہ اور کپڑے کی مدد سے میری ماں صاف کرتی ہے تو میری ماں کی بے بسی پر ھنستے ھیں ۔۔۔۔۔
خیر وقت گزرتا ھے۔ میں سکول جانے کی عمر کو پہنچتا هوں تو میری ماں مقامی امام مسجد اور چند معزز لوگوں کے ذریعے میرے والد صاحب سے اس وعدے پر شناختی کارڈ کی کاپی لے لیتی ھے کہ میرا بیٹا بڑے هو کر کبھی دادھیال کی جائیداد میں سے حصہ طلب نہیں کرے گا۔ شناختی کارڈ کی کاپی مل جانے پر میری ماں مجھے سکول داخل کرواتی ھے۔ میرے استاد محترم سید ظفر صاحب کو جب میرے حالات کا پتہ چلتا تو مجھے اور میری ماں کو بازار سے اٹھا کر اپنے گھر لاتے ھیں۔ ھمیں ایک الگ کمرہ دیتے ھیں اور ہمارا سارا خرچ برداشت کرتے ھیں۔ بدلے میں میری ماں سید ظفر شاہ کے انکار کے باوجود ان کے گھر کے کام کاج کا ذمہ اٹھا لیتی ھے۔ میں پڑھتا رھتا هوں یہاں تک کہ استاد محترم میرے لیے آرمی میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ اپلائی کرتے ھیں۔ میں سلیکٹ هو جاتا هوں اور میرا شمار ٹاپ ٹین کیڈٹس میں هوتا ھے۔ میں کورس مکمل کرتا هوں اور میری شادی استاد محترم کی بیٹی سے کر دی جاتی ھے ۔۔۔۔۔
جب میں بطور کیپٹن انٹیلیجنس کے ایک مشن پر هوتا هوں تو ہرٹ اٹیک سے میرے استاد محترم، سسر سید ظفر صاحب انتقال کر جاتے ھیں۔ میں ان کے جنازے میں شامل نہیں هو سکتا اور مشن مکمل کرنے کے بعد میں پورا ہفتہ پورا پورا دن ان کی قبر پر بیٹھ کر ان کے جنازے کو کندھا نہ دے سکنے پر معذرت کرتا رھتا هوں۔ جب دل کا غم ھلکا هوتا تو واپس ڈیوٹی جائن کرتا هوں۔ میں اپنے پورے بیج میں واحد اور منفرد آفیسر تھا جو پہلے خود جاسوس بن کر دشمن کا سراغ لگاتا پھر اپنی ٹیم تیار کر کے دشمن کا قلع قمع کرتا۔ میں بلوچستان میں ایک مشن پر تھا جب مجھے پتہ چلا کہ میری ماں کو فالج کا اٹیک آیا ھے۔ میں نے اپنے سینئرز، بیج میٹس یہاں تک کہ اپنی شریک حیات کے روکنے کے باوجود فوج سے استعفیٰ دیا اور اپنی ماں کی خدمت میں مصروف هو گیا۔ مجھے یاد ھے کرنل لطیف اور برگیڈئیر امتیاز نے مجھے کہا تھا اس فیصلے کے بعد تم پچھتاؤ گے۔ میری بیگم نے مجھے قسم دی تھی کہ وہ میری ماں کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی، میں اپنے عہدے پر قائم رھوں مگر میرا دل نہیں مانا ۔۔۔۔۔
میرے دل میں کہیں نہ کہیں خلش رھتی تھی کہ میری ماں جو کچھ مجھ سے کہہ سکتی ھے وہ میری بیوی سے نہیں کہہ سکتی۔ لہذا میں نے استعفیٰ دے دیا اور خود اپنی ماں کی خدمت کرنے لگا۔ میری ماں جب تک زندہ رھی میں نے شاید ھی کوئی رات گھر سے باھر گزاری هو۔ نہیں تو میں چوبیس میں سے اٹھارہ گھنٹے ماں کے ساتھ گزارتا تھا۔ میں نے چھوٹا سا گاڑیوں کا شو روم بنایا تھا جس پر ملازم بیٹھتا تھا۔ میں سارا دن ماں کے ساتھ گزارتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ماں کی خدمت کے صدقے میں اتنی برکت دی کہ میرے پاس آج بیرون ملک ناروے میں سات شو روم ھیں۔ آج پاکستان میں میری اپنی انڈسٹری ھے۔ آج میری ماں فوت هو چکی ھے۔ میرے بچے جوان هو چکے ھیں۔ میری بیٹی امریکہ میں زیر تعلیم ھے۔ دونوں بیٹوں نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد ناروے میں بزنس سنبھال رکھا ھے۔ میری اولاد منتظر رھتی ھے کہ کب ان کے والدین کوئی حکم دیں اور وہ بجا لائیں۔ کچھ عرصہ قبل میں اپنی بیوی کے ھمراہ امریکہ میں اپنی بیٹی کو ملنے گیا تو بیٹی کے کہنے پر ھم اولڈ ہوم چلے گئے۔ وہاں پر مقیم ایک پاکستانی، جسے شکل دیکھتے ہی میں نے پہچان لیا تھا کہ وہ برگیڈئیر امتیاز ھے، کو دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔ پاکستان میں اس کا رعب دبدبہ اس کی شان و شوکت سب کچھ امریکہ میں ختم هو چکا۔ وہ بالکل ھڈیوں کا ڈھانچہ تھا۔ میرے لاکھ یاد دلانے پر بھی وہ مجھے نہیں پہچان پایا تھا۔ انتظامیہ سے پوچھنے پر پتہ چلا کہ اس کا بیٹا اسے یہاں چھوڑ گیا تھا اور اس کی موت پر مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کی نصیحت کر گیا تھا۔ اولڈ ھوم سے واپسی پر میں تھک کر اپنی رھائش پر پہنچا تو میری بیٹی اور بیوی نے مجھے دبانا اور میرا مساج کرنا شروع کر دیا تھا۔ میں بنا کسی قسم کی ناگواری کا اظہار کیے پاؤں کی مالش کرتی بیٹی کو دیکھ کر سوچ رھا تھا کہ واقعی ھی ماں باپ سے حسن سلوک ایک ایسا عمل ھے جسے آج آپ لکھیں گے کل آپ کی اولاد آپ کو پڑھ کر سنائے گی اور برگیڈئیر امتیاز کی حالت نے میری اس سوچ پر مہر ثبت کر دی تھی ۔۔۔
نوٹ : اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے







