google.com, pub-3404148137114699, DIRECT, f08c47fec0942fa0
#نر_اور_مادہ_کتے_جڑ_کیوں_جاتے_ہیں ؟
نر اور مادہ کتے ملاپ کے دوران ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوپاتے ، اسکی وجہ "copulatory tie" کا عمل ہوتا ہے۔
دراصل کتے کا تعلق Canidae فیملی سے ہے جس میں کتے کے علاؤہ بھیڑیا، لومڑی ، گیدڑ، وغیرہ شامل ہیں۔ اس فیملی کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ ان کے عضو تناسل پر ایک خاص ابھرا ہوا حصہ ہوتا ہے جسے Bulbus glandis کہتے ہیں۔ باقی عضو تناسل کی طرح یہ حصہ بھی eractile tissues سے بنا ہوتا ہے، یعنی کہ ایسے ٹشوز جو بلڈ پریشر کی وجہ سے پھول جاتے ہیں اور انہی کی وجہ سے عضو تناسل میں تناو آتا ہے۔
نر اور مادہ کے جنسی ملاپ کے دوران سپرم کے خروج کے ساتھ اس Bulbus glandis میں بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے جس وجہ سے نر اپنا عضو تناسل مادہ کے جسم سے نکال نہیں پاتا۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ نر جلدی عضو تناسل نہ نکال سکے اور سپرم کا ضائع نہ ہو اور نہ ہی سپرم مادہ کے جسم سے باہر آسکیں۔ جس سے نر اور مادہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جاتے ہیں /پھنس جاتے ہیں ، اس صورتحال کو copulatory tie کہتے ہیں۔
یہ صورتحال کچھ دیر بعد خود ہی ختم ہوجاتی ، جب نر کا بلڈ پریشر نارمل ہوتا ہے۔ اس صورتحال کو ختم ہونے میں عموماً 15 سے 20 منٹ لگتے ہیں مگر یہ اس سے کم یا اس سے زیادہ وقت بھی لے سکتی ہے۔
یہ عمل (copulatory tie) جانور کی نسل بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، تحقیق کے مطابق copulatory tie کے بغیر بھی پریگنینسی ہوسکتی ہے مگر اس عمل کے بغیر پریگنینسی کے چانس بہت کم ہوتے ہیں۔
اسکے ساتھ ساتھ copulatory tie اس بات کی نشانی بھی ہے کہ نر نے وافر مقدار میں سپرم مادہ کے جسم میں خارج کیے ہیں۔
دراصل نر اپنا جنسی ملاپ تین مراحل میں کرتا ہے،
1- جس میں نر کا مادہ منویہ پانی جیسا ہوتا ہے جس میں بہت کم مقدار میں سپرم ہوتے ہیں، جن کا مقصد مادہ کے تولیدی نظام کو حرکت کے لیے تر کرنا ہوتا ہے۔
2- اس کے میں نر پہلے سے زیادہ مقدار میں مادہ منویہ خارج کرتا ہے البتہ اس میں پریگنینسی کے چانس کم ہوتے ہیں۔ اس مرحلے کے آخر میں copulatory tie کا عمل ہوتا ہے۔
3- تیسرا مرحلہ copulatory tie کے واقع ہونے کے کچھ منٹ بعد ہوتا ہے، اس مرحلے میں جو سپرم خارج ہوتے ہیں انکی تعداد اتنی ہوتی ہے کہ اس سے پریگنینسی کے چانسز 90 فیصد سے زیادہ ہوتے ہیں۔ گوایا کہ copulatory tie کے بعد ہی پریگنینسی کے زیادہ چانس ہوتے ہیں۔
جنسی عمل ہر جانور کرتا ہے، یہ ایک قدرتی عمل ہے، مگر پھر بھی کچھ لوگ اس عمل کے دوران پھنسے ہوئے جانوروں کو مارتے ہیں، جس سے ڈر کی وجہ سے جانور کا بلڈ پریشر مزید بڑھ جاتا ہے، اور اسکا copulatory tie اور لمبا ہوجاتا ہے جس وجہ سے جانور بھاگ بھی نہیں سکتا اور اپنے آپ کو چھوڑا بھی نہیں سکتا اور کچھ بے حس لوگ ان کو مزید مارتے ہیں جس سے ان دونوں کے اعضاء کو مزید ڈیمج ہوتا ہے۔
جانور بھی اللّہ کی مخلوق ہیں، ان پر رحم کریں۔۔۔۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں