google.com, pub-3404148137114699, DIRECT, f08c47fec0942fa0
بیوی کو بدزبانی پر مارنا
سوال :
بیوی کی مسلسل بد زبانی پر بیوی پر ہاتھ اٹھانا درست
ہے یا غلط؟
جواب :
قرآنِ کریم میں سورۂ نساء کی آیت 34میں اللہ تعالیٰ نے نافرمان بیوی کی اصلاح کے علی الترتیب تین طریقے ذکر فرمائے ہیں:
یعنی عورت اگر نافرمان ہے یا اس کی جانب سے نافرمانی کااندیشہ ہے، تو پہلا درجہ اصلاح کا یہ ہے کہ نرمی سے اس کو سمجھائے ،اگربیوی محض سمجھانے سے باز نہ آئے، تو دوسرا درجہ یہ ہے کہ شوہر اپنا بستر علیحدہ کر دے، تاکہ وہ اس علیحدگی سے شوہر کی ناراضگی کا احساس کر کے اپنے فعل پر نادم ہو جائے، قرآن کریم میں "فِی المْضَاجِعِ" کا لفظ ہے، اس کامطلب فقہاءِ کرام نے یہ لکھا ہے کہ جدائی صرف بستر میں ہو، مکان کی جدائی نہ کرے کہ عورت کو مکان میں تنہا چھوڑ دے ،اس سےفساد بڑھنے کا اندیشہ زیادہ ہے۔ چناں چہ ایک صحابی سے روایت ہے:
’’میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہماری بیویوں کا ہم پر کیا حق ہے؟ آپ نے فرمایا: جب تم کھاؤ تو انہیں بھی کھلاؤ اور تم پہنو تو انہیں بھی پہناؤ اور چہرے پر مت مارو، اگر اس سے علیحدگی کرنا چاہو تو صرف اتنی کرو کہ (بستر الگ کر دو) مکان الگ نہ کرو ‘‘۔
اور جوعورت اس سزا سے بھی متاثر نہ ہو تو پھر اس کو معمولی مار مارنے کی بھی اجازت ہے، جس سے اس کے بدن پر اثر نہ پڑے، اور ہڈی ٹوٹنے یا زخم لگنے تک نوبت نہ آئے اور چہرہ پر مارنے کو مطلقاً منع فرما دیا گیا ہے۔
چناں چہ "بخاری شریف" کی روایت میں ہے:
’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو غلام کی طرح نہ مارے ؛ کیوں کہ یہ بات مناسب نہیں کہ اول تو اسے مارے، پھر اخیر دن اس سے اپنی خواہش پوری کرے‘‘۔
نیز حجۃ الوداع کے موقع پرنبی کریم ﷺنے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایاتھا:
’’ سلیمان بن حضرت عمرو بن احوص فرماتے ہیں کہ وہ حجۃ الوداع میں نبی اکرم ﷺکے ساتھ شریک ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور وعظ و نصیحت فرمائی، پھر فرمایا: عورتوں کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت (مجھ سے) لو ؛ اس لیے کہ وہ تمہارے پاس قیدی ہیں، تم ان سے (اپنی طبعی حاجت ) کے علاوہ اور کسی چیز کے مالک نہیں ہو ، الاّ یہ کہ وہ کھلی بدکاری کریں، اور اگر وہ ایسا کریں تو ان کو بستروں میں اکیلا چھوڑ دو (یعنی اپنے ساتھ مت سلاؤ)، اور انہیں مارو، لیکن سخت نہ مارو (کہ ہڈی پسلی توڑ دو)، پھر اگر یہ تمہاری بات مان لیں تو ان کے لیے اور راہ نہ تلاش کرو ، تمہارا حق عورتوں پر ہے، اور تمہاری عورتوں کا حق تم پر ہے، تمہارا بیویوں پر یہ حق ہے کہ تمہارا بستر اُسے نہ روندنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو (یعنی تمہاری اجازت اور مرضی کے بغیر کسی کو گھر نہ آنے دیں)، اور جس کو تم ناپسند کرتے ہو اسے تمہارے گھر آنے کی اجازت نہ دیں، اور سنو! ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم لباس اور کھانا دینے میں ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو‘‘۔ (سنن ابن ماجہ-معارف القرآن)
بہتر یہی ہے کہ بیوی پر کسی بھی صورت ہاتھ نہ اٹھائے، تاہم اگر ابتدائی دو مرحلے آزماکر شوہر اس کی بدزبانی سے عاجز آگیا ہو اور ہلکی مار کی صورت میں اس کی اِصلاح کی امید ہو اور مذکورہ بالا شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے شوہر نے بیوی کی تنبیہ کردی تو اسے غلط نہیں کہا جائے گا، لیکن جہاں نفسانی جذبے سے مغلوب ہوکر مارا جائے یا ایسی مار جس سے نشان پڑجائے یا چہرے پر مارے، یا تین سے زیادہ ضربات مارے اس کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔
’’حضرت ایاس بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی بندیوں (اپنی بیویوں) کو مت مارو! (جب شوہروں نے بیویوں پر سختی چھوڑدی تو کچھ دن بعد) حضرت عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا: عورتیں اپنے شوہروں پر جری ہوگئی ہیں، چناں چہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں مارنے کی رخصت دی، (اس کے نتیجے میں) رسول اللہ ﷺ کی ازواجِ مطہرات کے ہاں بہت سی عورتوں نے آکر شوہروں کی شکایت کی، اس پر رسول اللہ ﷺ نے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو خطاب کرکے) فرمایا: تحقیق محمد (ﷺ) کے گھر والوں کے پاس بہت سی خواتین اپنے شوہروں کی شکایات لے کر آئی ہیں، یہ (مارنے والے شوہر) تم میں اچھے لوگ نہیں ہیں‘‘۔ فقط واللہ اعلم
ماخذ: دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر: 14410620071
تاریخ اجراء: 12-02-2020
google.com, pub-3404148137114699, DIRECT, f08c47fec0942fa0


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں