google.com, pub-3404148137114699, DIRECT, f08c47fec0942fa0
صاف صفائ
عورت کو چاہیے کہ وہ خود کو صاف ستھرا رکھے مگر میری نظر میں ازدواجی زندگی کا ہر پہلو دو طرفہ ہونا چاہیے۔
بیوی اگر اپنے شوہر کیلئے خود کو صاف ستھرا رکھے تو شوہر پر بھی لازم ہے کہ وہ بھی خود کو اپنی بیوی کیلئے صاف ستھرا رکھے۔
اگر شوہر سارا دن کام کاج سے فارغ ہو کر واپس آتا ہے تو بیوی نے بھی دن کام کرتے گزارا ہے۔
بیوی اور شوہر دونوں پر لازم ہے کہ وہ ایک دوسرے کیلئے تیار ہوں اور صاف ستھرے رہیں
مگر حرام میں ویسے بھی لذت ہے مگر ان کیلئے جو کم ظرف ہوتے ہیں
دوسری بات یہ ہے کہ دونوں کو ہی خیال رکھنا چاہیے، اگر تیار نہ ہونے پر بیوی اپنے شوہر کو کشش نہیں کرتی تو میرے خیال میں گندی بنیان میں لپٹا شوہر بھی اپنی بیوی کو کشش نہیں کر سکتا۔
یہ الگ بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورت کہہ نہیں سکتی مگر مرد کہہ دیتا ہے ورنہ یہ جذبات اور یہ خواہشات دونوں کی ہوتی ہیں۔
┄┅═❁ ﷽ ❁═┅┄
🌹 رسول اللّٰه ﷺ نے فرمایا !
✨️ «’’کوئی عورت اپنے مَحرم رشتہ دار کے بغیر سفر نہ کرے اور کوئی شخص کسی عورت کے پاس اس وقت تک نہ جائے جب تک وہاں ذی مَحرم موجود نہ ہو۔ ایک شخص نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میں فلاں لشکر میں جہاد کے لیے نکلنا چاہتا ہوں، لیکن میری بیوی کا ارادہ حج کا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو اپنی بیوی کے ساتھ حج کو جا‘‘»۔
📚 «صحیح البخاري : 1862»
google.com, pub-3404148137114699, DIRECT, f08c47fec0942fa0


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں