اسلام میں شادی کی بنیاد صرف تین چیزوں پر ہوتی ہے۔
اسلام میں شادی کو نکاح کا نام دیا گیا ہے۔ نکاح صرف قانونی ہی نہیں بلکہ معاشرتی خوبصورت بندھن ہے جو دو انجانے لوگوں کو آپسی بے لوث محبت میں باندھ لیتا ہے اور دو الگ الگ گھرانوں کو قریبی رشتوں کا درجہ عطا کرتا ہے۔ شادی کے بندھن سے عورت اور مرد کو بیوی اور خاوند ہونے کی قانونی حیشیت حاصل ہوتی ہے ۔ نکاح کے چند مقدس بولوں میں اتنی طاقت ہے کہ بے شک بعد شادی کے میاں بیوی ایک دوسرے کی بے پناہ محبت اور الفت میں اس طرح بندھ جاتے ہیں کہ جیسے یہ صدیوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہو۔ بے شک ازدواجی زندگی کا رشتہ اللہ سبحانہ و تعالی کی جانب سے عطا کیا گیا ایک خوبصورت اور انمول عطیہ ہے ایک نہایت ہی حسین و جمیل سنگ میل ایک بندھن ہے۔
اسلام میں شادی ایک معاشرتی رسم اور ایک خوبصورت ساتھ ہی نہیں ہے بلکہ یہ ایک ازدواجی زندگی کے لئے بہت ہی اہم پہلو بھی ہے۔ قرآن اور حدیث میں ایک کامیاب ازدواجی کے لئے کچھ کامیاب اصول بیان کئے گئے ہیں کہ جس پر عمل کر کہ مسلمان خوشحال زندگی بسر کر سکتے ہیں ۔
اگرچہ اسلام میں شادی فرض نہیں ہے پر آپ صل اللہ علیہ وسلم نے شادی کرنے پر اور شادی کی افادیت اور اہمیت پر زور دیا ہے اور خاص روشنی ڈالی ہے۔ آپ صل اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے کہ " اے میری امت کے نوجوانوں تم میں سے جو بھی نکاح کی توفیق رکھتا ہے وہ ضرور کرے کیونکہ اس سے نظریں نیچی رہتی ہیں اور پاکیزگی قائم رہتی ہے۔ اور جو شادی (نکاح) کی حیشیت نہیں رکھتے وہ روزے رکھیں تاکہ جنسی خواہش دب جاتی ہے یعنی کہ کم ہو جاتی ہے۔
نکاح کا سب سے اہم پہلو حق مہر کا ادا کرنا ہے جس سے عورتوں کو ان کے حق مہر کا تحفظ حاصل ہوتا ہے ۔ (صور ۃ النساء آیت نمبر 4 ) "اور عورتوں کو شادی کے وقت دل کھول کر تحائف دو" مہر در اصل ایک تحفہ ہے جو دولہا اپنی دلہن کو دیتا ہے۔ جس کی کوئی معیاد نہیں ہوتی دولہا اپنی حیشیت کے مطابق جو چاہے دل کھول کر اپنی دلہن کو مہر کا حق ادا کر سکتا ہے پھر چاہے وہ ایک لوہے کی انگیشتری ہو یا قیمتی گہنے یا زمین جائداد ہو ۔ مہر کا حق نکاح کے وقت دیا جاتا ہے، یا تو ایک وقت مقررہ پر ادا کیا جاتا ہے۔ پر اسے مرد کی جانب سے عورت کو دینا لازمی ہے ، اگر چہ اس مہر کو عورت گر اپنے دل سے اپنے خاوند کو معاف کرے یا اسے استعمال کا حق دے تو کوئی مضائقہ نہیں کہ عورت کی اپنی مرضی سے مرد کے لئے یہ مہر معاف ہو سکتی ہے یا مرد اسے اپنے استعمال میں لا سکتا ہے۔ پر اس میں زبردستی کا معاملہ ہر گز نہیں ہے جو جائز بھی نہیں ہے کیونکہ یہ اللہ کی جانب سے عورت کو اس کے تحفظ کا حق دیا گیا ہے جس پر خالص عورت کا حق ہوتا ہے ۔ جو تم نے مقرر کیا ہے اور جس کو دینے کا وعدہ کیا ہے وہ ہر صورت میں دینا ہے۔
نکاح، مہر اور تیسرا خاص پہلو یہ ہے کہ دولہا اپنے گھر آئے ہوئے مہمانان کے لئے کھانے کا انتظام کرے۔ طعام کا اہتمام لڑکی والوں نے کرنا لازم نہیں ہے، بلکہ دولہا اپنی حیشیت کے مطابق دعوت کا اہتمام کرے اگر چہ ایک بھیڑ ہی کیوں نا ہو پر لوگوں کو بلائے اور انہیں کھانا دے اور دو گھرانوں کے رشتے دار مل کر طعام نوش کرے اور نئے رشتے کی شروعات خوش دلی سے کرے۔ اس عمل میں خاص مصلحت یہ پنہاں ہے کہ لوگوں کو اس نئے رشتے کے ہو جانے کا پتہ چلے۔ جسے دعوت ولیمہ کہتے ہے۔
اس طرح نکاح، مہر کی ادائیگی اور دعوت ولیمہ یہ ہی ایک ازدواجی زندگی کو آپس میں جوڑنے جانے کے تین اہم پہلو ہیں باقی جو آج جدید دور کے شادی کے نام پر سارے اصراف، فضول خرچی، دکھاوا اور بے انتہا دعوت طعام پر اخراجات، منڈپ، شامیانے، گانا باجا یہ سارے فرسودہ رسومات خرافات میں شامل ہے جس کا مذہب اسلام سے اور اسلامی شریعت سے کوئی واسطہ نہیں ہے، جو بے شک وقت اور پیسوں کی بربادی ہے جس کا حاصل کچھ بھی نہیں بلکہ ہر جانب سے نقصان اور گھاٹے کا سودا ہے۔دنیا کے ساتھ آخرت کا بھی نقصان ہوتا ہے کیونکہ یہ سراسر شریعت کی مخالفت ہے۔
اللہ امت مسلمہ کے تمام مسلمانوں کو عورتوں اور مردوں کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور اللہ ہم سے وہ ہی کام لے جو اس کی رضا میں شامل ہو ـ آمین۔
.jpg)

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں