<script async src="https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-3404148137114699"
crossorigin="anonymous"></script>💫 جب غـیـرت زندہ تھی ...
ایک خاتون مکمل پردے میں قاضی کے سامنے کھڑی تھی، اس نے اپنے شوہر کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا تھا، مقدمہ کی نوعیت بڑی عجیب تھی کہ میرے خاوند کے ذمہ مہر کی رقم پانچ سو دینار واجب الاداء ہیں اور وہ ادا نہیں کر رہا لہٰذا مجھے مہر کی رقم دلوائی جائے۔
قاضی نے خاوند سے پوچھا تو اس نے اس دعویٰ کا انکار کیا کہ اس کے ذمہ عورت کی کوئی رقم نہیں ہے، عدالت نے گواہ طلب کئے، چند گواہوں کو پیش کیا، گواہوں نے کہا کہ ہم اس خاتون کا چہرہ دیکھ کر ہی بتا سکتے ہیں کہ واقعی یہ وہی عورت ہے جس کی گواہی کیلئے ہم آئے ہیں لہٰذا عورت سے کہا جائے کہ اپنے چہرے سے پردہ ہٹائے تاکہ ہم اس کی شناخت کرسکیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ عورت گواہوں کے سامنے چہرہ سے نقاب ہٹائے تاکہ وہ شناخت کرسکیں، یہ عمل شرعاً جائز بھی ہے، ادھر عورت تذبذب کا شکار تھی کہ گواہوں کے سامنے نقاب اتارے یا نہ اتارے، گواہ اپنے موقف پر مُصر تھے، اچانک اس کے خاوند نے غیرت میں آکر کہا ”مجھے قطعاً یہ گوارا نہیں کہ کوئی نامحرم شخص میری بیوی کا چہرہ دیکھے لہٰذا گواہوں کو اس کا چہرہ دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں، اس کا مہر واقعی میرے ذمے ہے۔“
عدالت ابھی فیصلہ دینے ہی والی تھی کہ وہ عورت بھی بول اٹھی اگر میرا شوہر کسی کو میرا چہرہ دکھلانا برداشت نہیں کرتا تو میں بھی اس کی توہین برداشت نہیں کر سکتی لہٰذا مقدمے کو خارج کر دیں، میں نے اس کو اپنا مہر معاف کردیا، میں غلطی پر تھی جو ایسے شخص کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔
یہ واقعہ ابن جوزی کی معروف کتاب ”المنتظم فی تاریخ الامم والملوک“ 403/12 میں دیکھا. جاسکتا ہے.

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں