<script async src="https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-3404148137114699" crossorigin="anonymous"></script>
کنڈوم کے استعمال سے کیا مسائل پیدا ہو سکتے ہیں کیا آپ کو معلوم ہے
اسقاط حمل کے لئے مختلف طریقے استعمال کئے جاتے ہیں عام طور پر کنڈوم کو ضبط ولادت کا محفوظ طریقہ خیال کیا جاتا ہے میں اس سے اختلاف تو نہیں کر سکتا لیکن کنڈوم استعمال کرنے والوں کو یہ ضرور معلوم ہونا چاہئے کہ ان کی صحت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
آج میں آپ کو کنڈوم کے طریقہ استعمال کے حوالہ سے تھوڑی سی رہنمائی دینا چاہوں گا
کنڈوم استعمال کرنے سے پیدا ہونے والے مضر اثرات
اس پر آپ سے تبادلہ خیال کروں گا۔
عام طور پر مارکیٹ میں دو قسم کے کنڈوم دستیاب ہیں ایک وہ جو سادہ ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جن کے اندر کریم یا جیل نما دوائی لگی ہوتی ہے۔ دوسری قسم کے کنڈوم کو مخصوص اوقات میں ٹائمنگ بڑھانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
اس دوسری قسم کے کنڈوم میں لگائی جانے والی ایلوپیتھک دوا دراصل "لیگنوکین" ہوتی ہے جو وقتی طور پر نفس کی رگوں اور پٹھوں کو سن کر دیتی ہے، نفس میں کسی بھی قسم کی رگڑ کا احساس ختم ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اگر نفس پر چٹکی بھی کاٹی جائے تو درد محسوس نہیں ہوتا۔
گزارش یہ ہے کہ یہی رگڑ کا احساس ہے جسے خاموش کیا گیا ہے در اصل یہ جماع کی لذت ہے اس طرح مرد کسی بھی طرح کی لذت سے محروم ہو جاتا ہے وہ صرف اپنے پارٹنر کو خوش کرنے کے لئے اپنے ساتھ ظلم کر رہا ہوتا ہے۔ نتیجتہً کچھ ہی عرصہ بعد وہ مردانہ امراض کا شکار ہو جاتا ہے۔ انتشار کی سختی سے محروم ہو جاتا ہے اور آہستہ آہستہ اس کے عضو تناسل کی رگیں اور پٹھے تباہ ہونے سے وہ حق زوجیت ادا کرنے کے قابل بھی نہیں رہتا۔ ایسے مریضوں کے عضو تناسل کو دوبارہ اصل حالت میں لانے کے لئے طویل اور محنت طلب علاج درکار ہوتا ہے۔
آپ کو آگاہی دینے کا مقصد یہ تھا عضو تناسل کو سن کرنے کے لئے جو ایلوپیتھی دوا کنڈوم میں استعمال کی جاتی ہے اسی کے اجزاء پر مشتمل کریمیں اور سپرے بھی مارکیٹ میں ملتے ہیں وقتی لذت کے لئے جو لوگ بھی یہ چیزیں استعمال کرتے ہیں ان کے عضو تناسل کی رگیں اور پٹھے جل کر مردہ ہو جاتے ہیں اور باقی کی زندگی اپنی کھوئی ہوئی طاقت کو بحال کرنے کے لئے دھکے کھانے میں گزر جاتی ہے۔
انسان کے لئے جماع کی اصل لذت اس کی اپنی قدرتی طاقت اور ٹائمنگ میں ہی ہوتی ہے۔ بہتر یہ ہوتا ہے کہ آپ کا پارٹنر یا شریک حیات بھی آپ کی اسی طاقت کا عادی ہو، مصنوعی اور وقتی فائدہ دینے والی ادویات آپ کو تو مریض بناتی ہی ہیں، شریک حیات کے لئے گمراہی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں