google.com, pub-3404148137114699, DIRECT, f08c47fec0942fa0
: جنت ایک عجیب نعمت:
کیا آپ کروڑوں لوگوں کے بادشاہ بننا چاہتے ہیں تو تحریر مکمل پڑھیں___
میں اکثر سوچتا تھا کہ جنت میں عام جنتی کو اِس ہماری دنیا کی زمین سے دس گنا زیادہ جگہ ملے گی!
تو وہاں اتنی زیادہ جگہ پر کیا ہوگا؟
کیونکہ حدیث پاک میں ایسا ہی آیا کہ ادنی جنتی کو جو کہ سب سے آخر میں جہنم سے نکل کر آئے گا اس کو ہماری اِس دنیا سے دس گنا زیادہ زمین جنت میں دی جائے گی
( ہماری اِس دنیا میں سات برِ اعظم دو سو مُلک بے شمار پہاڑ و صحراء و جنگلات اور دریا و سمندر ہیں)
تو ان جنتیوں کی جگہ کتنی ہوگی جو شروع سے ہی جنت میں جائیں گے؟
وہ جو سب سے آخر میں جہنم سے نکل کر جنت میں جائے گا وہ سب سے ادنی جنتی ہوگا
اور میرا یقین کہتا ہے کہ وہ ادنی جنتی امتِ محمدیہ کا فرد نہیں ہوگا بلکہ سابقہ کسی امت کا فرد ہوگا
کیونکہ اس امت کے تمام مومن اعلی جنتی ہیں!
جب ادنی کو اتنی جنتی زمین ملے گی تو اعلی کو کتنی ملے گی عقل سے وراء ہے!
تو دل میں خیال آتا تھا کہ وہاں کیا ہوگا؟
اگر درخت ہی درخت ہوں تب بھی عجیب لگے گا
کہ درخت ہی درخت ہوں جبکہ وہاں ایک درخت اتنا بڑا ہوگا کہ پانچ سو سال گھوڑا بھاگتا رہے اس کے سائے سے باہر نہ نکل سکے!
اگر قطار در قطار محلات و مکانات ہوں تب بھی عجیب سا ماحول ہوگا کہ اتنے گھروں میں بندہ کیا کرے گا؟
اتنی زیادہ زمین پر مسلمان کیا کرے گا؟
اس کی وہاں کیا مصروفیات ہوں گی؟
وہ ہمیشہ ہمیشہ ان محلات و باغات میں کیا کرے گا؟
پھر مجھے سمجھ آیا کہ
اللہ ربّ العزت نے یہاں دنیا میں تین چیزوں سے منع فرمایا ہوا ہے!
حرام کھانا پینا
حرام طریقے سے جماع
اور حرام شہرت و منصب!!!
جو حرام کھانے پینے سے باز رہے گا اس کو اعلی قسم کے کھانے ملیں گے کہ ہر لقمہ میں ستر قسم کے ذائقے اور اعلی مشروبات یعنی شراب طہور نصیب ہوگی!
جو حرام جماع سے بچے گا اس کو اس جنتی خواتین حوروں کی شکل میں دی جائیں گی
جو مٹی سے نہیں مشک سے بنائی گئی ہیں یعنی ان کو خوشبو لگانے کی حاجت ہی نہیں ہوگی!
علماء فرماتے ہیں کہ درود پاک کی کثرت کرنے سے جنتی خواتین سے حسن بڑھتا ہے
جو زیادہ درود پاک پڑھے گا اسکی خواتین کے چہروں کے حسن میں اضافہ کیا جاتا ہے
اور الدرر السافرہ میں علامہ سیوطی نے روایت بیان کی کہ ایک جنتی کو بارہ ہزار چار سو حوریں دی جائیں گی
میں سوچتا کہ کیا مومن کی ہمیشہ کی زندگی صرف کھانے پینے اور جماع میں گزرے گی؟
پھر ایک حدیث پاک پڑھی کہ
فقراء الدنیا ملوک الآخرۃ
دنیا کے فقیر آخرت کے بادشاہ ہوں گے
ایک روایت میں العلماء ملوک الآخرۃ
علماء آخرت کے بادشاہ ہوں گے
مجھے یہ سمجھ نہیں آتی تھی بادشاہ ہوں گے
اس کا کیا معنی ہے؟
کیسے بادشاہ ہوں گے؟
بادشاہ تو وہ ہوتا ہے جس کے ماتحت عوام ہو جس کی رعایا ہو
تو جنت میں بادشاہت کیسی ہوگی؟
پھر انیس الارواح میں خواجہ صاحب کو پڑھا فرمایا کہ جو رضائے الہی کے لیئے غلام آزاد کرے گا اس کے لیئے جنت میں ایک شہر آباد کیا جائے گا !
تو بس پھر مجھ پر کھلا کہ جو اتنی زیادہ زمین ہوگی اور وہاں علماء و فقراء بادشاہ ہوں گے
اس کا مطلب ہے کہ وہاں مومن کے لیئے مُلک کے مُلک آباد کیئے جائیں گے جن ملکوں میں رعایا ہوگی
اور وہ اس بندہ مومن کے ہر لحاظ سے ماتحت ہوگی یہ ان کا بادشاہ ہوگا!
اس دنیا سے دس گنا یا بیس گناہ یا سو یا ہزار گنا زیادہ زمین پر ( جو ہر مومن کو عمل کے حساب سے زمین ملے گی )سینکڑوں ملک ہوں گے اور ھم وہاں ان کے سلطان و بادشاہ ہوں گے
کھانے پینے اور جماع کی شہوت ایک طرف!
مگر ہٹو ہٹاؤ
ایک طرف ہو جاؤ
بادشاہ سلامت تشریف لا رہے ہیں
دربار سجاو
ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جاؤ
خدام و خادمائیں حاضر کرو
ملک کے وزیر و مشیر بلاؤ
ان سب کا لطف و مزہ سب سے منفرد و عظیم ہوگا
جو یہاں دنیا میں حرام شہرت و ناجائز منصب ترک کرے گا اس کو وہاں عظیم سلطان بنایا جائے گا
جو یہاں اپنے منصب و مقام کا استعمال اچھا کرے گا اور ساتھ میں عاجزی کرے گا وہ وہاں کا سلطان ہوگا!
کبھی وہ مشرق میں اپنی رعایا کی خبر گیری کرنے جائے گا اور کبھی مغرب میں رعایا کا حال پتا کیا کرے گا!
ایک ملک میں اس کی رعایا ایک رنگ کی ہوگی
دوسرے میں الگ طرح کی ہوگی
اور وہ اکیلا ان سب کا بادشاہ ہوگا
کبھی علماء سے ملاقات کرنے جائے گا
کبھی اولیاء سے ملنے حاضر ہوگا!
کبھی دوست و احباب کی جنتوں میں حاضر ہوگا تو کبھی انبیاء کرام علیہم السلام کی بارگاہوں میں حاضری دے گا
تو کبھی قسمت چمکی تو جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ عالیہ میں حاضری سے مشرف ہوگا
تو کبھی خود ان نفوس قدسیہ کی مہمان نوازی کیا کرے گا
الغرض جو نعمت مزے کی ہوگی وہ ایک غریب آپ مجھ جیسے مسلمان کا وہاں سلطانوں کا سلطان بننا ہوگا
اور اس نعمت کا لطف و مزہ یقینا بیان سے باہر ہے کہ جب کروروں لوگ ہمارے نام کے نعرے لگاتے ہوں گے تو کیا محسوس کریں گے
یہ سوچ ہی عجب سی لذت دیتی ہے
ھم اللہ ربّ العزت سے ایمان پہ خاتمے کا اور جنت الفردوس کا سوال کرتے ہیں،،،
انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد میں ذاتی طور پر جنت میں جن سے ملنا چاہوں گا
ان میں ابو السلاطین سلطان عثمان غازی اور عارف باللہ امام عبد الوھاب شعرانی اور سلطان صلاح الدین ایوبی ہیں!
آپ کن سے ملنا چاہیں گے؟


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں