جمعرات، 2 فروری، 2023

A beautiful story of faith








.    ایمان لانے کا خوبصورت واقعہ          

 امریکہ کے ایک ہسپتال میں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا

اور اس واقعے کے زیر اثر امریکن ڈاکٹر مسلمان ہو گیا،
مذکورہ ہسپتال میں ایک روز ڈلیوری کے دو کیس ایک ساتھ آئے، ایک عورت سے لڑکا پیدا ہوا،
اور دوسری سے لڑکی،
جس رات میں ان دونوں بچوں کی ولادت ہوئی اتفاق سے نگران ڈاکٹر موقع پر موجود نہیں تھا، دونوں بچوں کی کلائی میں وہ پَٹی بھی نہیں باندھی ہوئی تھی جس پر بچے کی ماں کا نام درج ہوتا ہے،
تو نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں بچے خلط ملط ہو گئے اور ڈاکٹروں کیلئے یہ شناخت کرنا مشکل ہو گیا کہ کس عورت کا کون سا بچہ ہے حالانکہ ان میں سے ایک لڑکی تھی اور دوسرا لڑکا…
ولادت کی نگرانی کرنیوالے ڈاکٹروں کی ٹیم میں ایک مسلمان مصری ڈاکٹر تھا جس کو اپنے فن میں بڑی مہارت حاصل تھی اور امریکن ڈاکٹروں سے اس کی بڑی اچھی شناسائی تھی اور اپنے اسٹاف کے ایک امریکی ڈاکٹر سے گہری دوستی تھی، دونوں ڈاکٹرز سخت پریشان تھے کہ اس مشکل کا حل کیسے نکالا جائے۔۔۔۔؟
*امریکی غیرمسلم ڈاکٹر نے مصری ڈاکٹر سے کہا کہ تم تو دعویٰ کرتے ہو کہ قرآن ہر چیز کی تبیین و تشریح کرتا ہے ا ور اس میں ہر طرح کے مسائل کا اِحاطہ کیا گیا ہے تو اب تم ہی بتاؤ کہ ان میں سے کون سا بچہ کس عورت کا ہے۔۔۔؟*
مصری ڈاکٹر نے کہا کہ ہاں قرآن حکیم بے شک ہر معاملے میں نَص ہے اور میں اِسے آپ کو ثابت کر کے دکھاؤں گا، مگر مجھے ذرا موقع دیجئے کہ میں خود پہلے اس معاملے میں اطمینان حاصل کر لوں
چنانچہ مصری ڈاکٹر نے باقاعدہ اس مقصد کیلئے مصر کا سفر کیا اور جامعہ ازہر کے بعض شیوخ سے اس مسئلے میں استفسار کیا اور امریکن دوست ڈاکٹر کے ساتھ کی گئی بات چیت کی روداد بھی پیش کی، ازہری عالم نے جواب دیا کہ مجھے طبی معاملات و مسائل میں ادراک حاصل نہیں ہے،
البتہ میں قرآن کی ایک آیت پڑھتا ہوں، آپ اس پر غورو فکر کریں،
اللہ تعالیٰ نے چاہا تو آپ کو اس مسئلے کا حل اس میں مل جائے گا چنانچہ اس عالم نے درج ذیل آیت پڑھ کر سنائی،
*’’ترجمہ: مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے‘‘ (النساء 11)*
مصری ڈاکٹر نے اس آیت میں غور و تدبر شروع کر دیا اور گہرائی میں جانے پر اسے اس مشکل کا حل بالآخر مل ہی گیا، چنانچہ وہ لوٹ کر امریکہ آیا اور اپنے دوست ڈاکٹر کو اعتماد بھرے لہجے میں بتایا کہ قرآن نے ثابت کردیا ہے کہ ان دونوں میں سے کون سا بچہ کس ماں کا ہے،  امریکن ڈاکٹر نے بڑی حیرت سے پوچھا کہ یہ کس طرح ممکن ہے...؟
مصری ڈاکٹر نے کہا کہ ہمیں ان دونوں عورتوں کا دودھ ٹیسٹ کرنے کا موقع دیجئے تو اس معمے کا حل معلوم ہو جائے گا، چنانچہ تجزئیے و تحقیق کے نتیجے میں معلوم ہو گیا کہ کون سا بچہ کس عورت کا ہے اور مصری ڈاکٹر نے اپنے غیر مسلم دوست ڈاکٹر کو اس نتیجے سے پورے اعتماد کے ساتھ آگاہ کر دیا، ڈاکٹر حیران و ششدر تھا کہ آخر یہ کیسے معلوم ہو گیا...؟
مصری ڈاکٹر نے بتایا کہ اس تحقیق و تجزئیے کے نتیجے میں جو بات سامنے آئی ہے وہ یہ تھی کہ *لڑکے کی ماں میں لڑکی کی ماں کے مقابلے میں دوگنا دودھ پایا گیا مزید برآں لڑکے کی ماں کے دودھ میں نمکیات اور وٹامنز (حیاتین) کی مقدار بھی لڑکی کی ماں کے مقابلے میں دوگنی تھیں،*
پھر مصری ڈاکٹر نے امریکن ڈاکٹر کے سامنے قرآن کریم کی وہ متعلقہ آیت تلاوت کی (مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے) جس کے ذریعے اس نے اس مشکل کا حل تلاش کیا جس کام کو حل کرنے میں دونوں ڈاکٹر نہایت پریشان تھے، تو قرآن نے بتایا کہ عورت کے مقابلہ میں مرد کے دو حصے تو جس عوت کے پستان میں دودھ اور وٹامنز زیادہ مقدار میں تھے وہ لڑکے کی ماں تھی، جسمیں کم تھے وہ لڑکی کی ماں تھی، یوں فیصلہ ہوگیا، چنانچہ وہ امریکی ڈاکٹر فوراً ایمان لے آیا،
سبحان اللّه

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں