عورت کا اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام لگانے کا شرعی حکم
عورت کا اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام لگانے کا شرعی حکم
سوال:
اس وقت واٹساپ اور دیگر سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر کثرت سے یہ مسئلہ گردش کررہا ہے کہ کوئی عورت اپنے نام کے ساتھ اپنے شوہر کا نام نہیں لگا سکتی، ایسا کرنا حرام ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اور صحابہ و صحابیات نے ایسا کبھی نہیں کیا، گرچہ فی نفسہ مسئلہ کا علم ہے، لیکن اس سلسلہ میں مدلل ومفصل مسئلہ سامنے لانے کی ضرورت ہے، اگر آپ کے پاس وقت ہوتو اس پرقلم اٹھائیں جزاک اللہ (احمد علی فلاحی، بیڑ، مہاراشٹر)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بسم ملہم الصواب
آپ کا سوال واقعی بہت اہم ہے اور اسوقت سوشل میڈیا پر کثرت سے یہ مسئلہ بغیر صحیح علم کے عام کیا جارہا ہے، اس سلسلہ میں غلط فہمی کی بنیادی وجہ ان آیات یا احادیث کے صحیح اور درست مفہوم سے ناواقفیت ہے جو اس سلسلے میں پیش کی جاتی ہیں، اس لئے تفصیل سے اس پر گفتگو کی جاتی ہے۔
در اصل اس مسئلے میں دو باتیں قابل غور ہیں ایک یہ کہ وہ آیات و احادیث جو اس مسئلے کے بارے میں پیش کی جاتی ہیں جیسے کہ سورہ احزاب کی آیت نمبر 5 کہ اس میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کو ان کے نسبی باپ کے ناموں سے پکارا کرو یہی اللہ کے نزدیک مبنی بر حق بات ہے
(1) یا وہ احادیث جن میں اپنے کو دوسرے کی جانب منسوب کرنے کی ممانعت ہے
(2) تو ان کا مقصود صرف یہ ہے کہ اپنے آپ کو نسب کے اعتبار سے دوسرے کی طرف منسوب کرنا ہے دوسرے سے ولدیت جوڑنا ہے؛ جیسے کسی ایسے شخص کو باپ قرار دینا جو حقیقت میں اسکا باپ نہیں ہے، یا کسی کو اپنا داد قرار دینا جو درحقیقت اس کا دادا ہے ہی نہیں، یا کسی ایسے قبیلے سے منسوب کرنا جس سے اصلا اس کا تعلق نہیں ہے؛ جیسے آجکل بہت سے لوگوں نے سید نہ ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو سید لکھنا اور لوگوں سے بطور فخر و مباہات کہلوانا شروع کر دیا ہے، تو یہ قطعا غلط ہے اور یہی مطلب و مقصود ہے ان آیات و احادیث کا، باقی ایسی نسبت جس سے نسب پر کوئی فرق نہ پڑتا ہو یا عرف میں ایسا انتساب روا ہو تو ایسی نسبت میں شرعا کوئی مضائقہ نہیں ہے اور تاریخ اسلام میں اس کی کافی مثالیں مل سکتی ہیں، جیسے ایک مشہور صحابی ہیں حضرت ابو ھریرہ ان کا اصل نام عبد الرحمن تھا لیکن بلی کی جانب نسبت کرکے لوگ پوری زندگی انہیں ابو ھریرہ ہی کہتے رہے؛ کیونکہ اس قسم کی نسبت عرب میں عام تھی، اسی طرح عبد المطلب مطلب کے نہ ہی غلام تھے نہ ہی انکے بیٹے تھے؛ بلکہ ان کے پوتے تھے، لیکن عربوں میں اس قسم کی نسبت جائز تھی؛ اس لئے اس کو کبھی معیوب نہیں سمجھا گیا اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس پر کبھی نکیر فرمائی، اسی طرح صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک جنگ کے موقع پر اپنے آپ کو انا ابن عبد المطلب سے تعارف کرایا اور اپنے کو عبداللہ کے بجائے عبد المطلب سے منسوب کیا
(3) تاکہ آپ کا تعارف اس موقع پر صحیح طور پر ہوسکے، اسی طرح آپ نے اپنے کو ابن الذبیحتین یعنی دو ذبیح عبداللہ اور حضرت اسماعیل کا بیٹا قرار دیا اور اس کو قرار دینے کا مقصد اپنے نسب کے ساتھ اپنا تعارف بھی مقصود تھا کہ میں ان جیسے نام خدا پر قربان ہستیوں سے تعلق رکھتا ہوں، تو معلوم ہوا کہ جس جگہ مقصود اپنا نسب نہیں ہو اور اس قسم کا عرف ہو تو ایسی جگہوں پر اپنے کو دوسرے کے ساتھ منسوب کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
دوسری بات یہ کہ جہاں صرف شخصیت کا تعارف یا اس کی وضاحت مطلوب ہو وہاں بھی باپ کے بجائے دوسرے ایسے شخص کی جانب منسوب کرنا جس سے شخصیت کی وضاحت یا تعارف حاصل ہوجائے جائز ہے، جیسے ایک روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت زینب کاشانہ نبوت پر حاضر ہوئیں آپ نے پوچھا کون؟ لوگوں نے بتایا: زینب، آپ نے دریافت کیا کون زینب؟ لوگوں نے کہا "زینب امرأة مسعود" یعنی مسعود کی بیوی زینب ہیں
(4) کیونکہ اس سے ان کا تعارف صحیح طور پر سمجھ میں آجاتا تھا، اسی طرح قرآن مجید میں بھی حضرت نوح اور حضرت لوط علیہما السلام کی ازواج کو ان کے والدین کیطرف منسوب کرنے کے بجائے ان دونوں نبیوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے، جبکہ یہ دونوں کافرہ تھیں اور فرعون کی بیوی کو فرعون کی طرف منسوب کرتے ہوئے اس نیک بی بی کا تعارف کرایا گیا ہے
(5) حالانکہ فرعون کافر ہی نہیں مدعئ خدائی تھا، اسی طرح بخاری شریف کی روایت میں ایک جگہ حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی زبانی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق یہ تعارفی کلمات نقل کئے گئے "أخبرني عروة ابن الزبير أن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت" کہ عروہ بن زبیر نے کہا مجھ سے حضرت عائشہ زوجۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بیان کیا(5)۔
لہذا ان وضاحتوں اور تاریخی شہادتوں سے واضح ہوگیا کہ جہاں مقصود صرف تعارف ہو وہاں باپ کے بجائے دوسرے ایسے شخص کی طرف منسوب کرنا جس سے نسب میں کوئی وہم نہ ہو اور اس شخصیت کا تعارف حاصل ہوجاتا ہو اور عرف بھی اس بات کا
ہو تو اس طرح کی نسبت قطعا غلط نہیں ہے، بلکہ شرعا بالکل جائز اور روا ہے۔
اب اس تمام تفصیل کی روشنی میں صورت مسؤلہ کے متعلق اگر غور کیا جائے تو بخوبی یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں بذات خود یا بحکم حکومت جو خواتین اپنے نام کے ساتھ اپنے شوہروں کا نام لگاتی ہیں ان کا مقصود نسب کی تبدیلی نہیں ہے؛ یہی وجہ ہے ان کے نکاح کے وقت رجسٹر میں انکے باپ کے نام ہی کا اندراج ہوتا ہے؛ بلکہ صرف یہ ایک تعارفی بات ہوتی ہے کہ یہ خاتون فلاں کی بیوی ہے اور معاشرے میں لوگوں کو اس کے باپ کے نام کا علم بھی ہوتا ہے، پھر ایسے انتساب کو عرفا بھی غلط نہیں سمجھا جاتا ہے اور تاریخ میں ایسی مثالیں موجود بھی ہیں؛ اس لئے میرے علم و تحقیق کے مطابق اس کو ناجائز اور حرام بتانا درست نہیں ہے؛ بلکہ ایسا انتساب جائز ہونا چاہئے۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
الدلیل علی ما قلنا
(1) ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ ۚ (الأحزاب 5).
(2) حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنِ الْحُسَيْنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ أَنَّ أَبَا الأَسْوَدِ الدِّيلِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ وَهْوَ يَعْلَمُهُ إِلاَّ كَفَرَ، وَمَنِ ادَّعَى قَوْمًا لَيْسَ لَهُ فِيهِمْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ)) (صحيح البخاري حديث نمبر 3508)
(3) حدثنا أبو الوليد حدثنا شعبة عن أبي إسحاق قيل للبراء وأنا أسمع أوليتم مع النبي صلى الله عليه وسلم يوم حنين فقال أما النبي صلى الله عليه وسلم فلا، كانوا رماة فقال:
((أنا النبي لا كذب * أنا ابن عبد المطلب)) (صحيح البخاري حديث نمبر 4316)
(4) جاءت زينب امرأة ابن مسعود تستأذن عليه فقيل يا رسول الله هذه زينب فقال: ((أي الزيانب)). فقيل امرأة ابن مسعود. قال: ((نعم ائذنوا لها)). (حديث نمبر 1462)
(5) ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَامْرَأَتَ لُوطٍ ۖ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ . (التحريم 10)
وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِندَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِن فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ (التحريم 11)
(6) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مَعْمَرٍ.
وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ إِلاَّ وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ. ( صحیح البخاري حديث نمبر 6079)

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں