نوٹ اس بلاگ کا بنیادی مقصد آپ لوگوں کی صرف اور صرف رہنمائی کرنا ہے۔۔۔۔۔
ایک عام انسان ماں کے پیٹ سے سب کچھ سیکھ کر پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس دنیا میں آکر سیکھنا پڑتا ہے۔
چلنا، بولنا، لکھنا، پڑھنا اور بالغ ہونے کے قریب ہوتا ہے تو نماز، روزے کے طریقے سیکھنا پڑتا ہے،
پیسے ہوجائیں تو زکوٰۃ کے مسائل،
حج اور عمرہ کو جائے تو مسائل کا علم ہونا لازمی ہے،
پیدائش سے لے کر موت تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے انسان کچھ نہ کچھ سیکھتا رہتا ہے اور سیکس نولیج بھی انھی میں سے ایک ہے۔
اسے سیکھنے میں یہ بات خاص اہمیت رکھتی ہے کہ وہ کس سے اور کیا سیکھ رہا ہے؟
اگر دین کسی بد مذہب سے سیکھے گا تو اس کی آخرت برباد ہو جائے گی،
اگر نا اہل سے کوئی کام سیکھے گا تو کامیابی نہیں ملے گی اور سیکس بھی اگر غلط ذرائع (Sources) سے سیکھے گا تو ہو سکتا نقصان اٹھانا پڑے۔ ہماری کچھ تحریر ایسی ہوتی ہے جس کو ہم بلاگ میں سینڈ نہیں کر سکتے۔
یہ بلاگ نیک نیتی کیساتھ، شریعت اور جدید علوم کی روشنی میں شادی شدہ جوڑوں اور جن کی عمر +18 ان کے کیلئے ہے۔
یہ ایک عملی بلاگ ہے، اس کا بنیادی مقصد ان لوگوں کو رہنمائی فراہم کرنا ہے جو ازدواجی زندگی کے حوالے سے زیادہ معلومات نا رکھنے کی وجہ سے فطری ازدواجی خوشیوں اور سکون سے محروم ہیں۔
ہمارے معاشرے میں عام طور پر میاں بیوی کے تعلق پر بات کرنے والوں کو بے حیاء سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے بہت سے نوبیاہتا جوڑے کسی بڑے سے اپنے جنسی مسائل پوچھنے سے شرماتے ہیں اور یوں ان کے مسائل پیچیدہ ہوتے چلے جاتے ہیں۔
مباشرت یعنی فریضہ زوجیت ایک صدقہ ہے۔ میاں بیوی کے درمیان الفت بڑھانے اور نسل انسانی کے تحفظ کا ضامن یہ عمل کوئی شجر ممنوعہ نہیں کہ اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے اس بارے میں بات کرنا بے شرمی کی بات سمجھی جائے۔ جائز حدود میں رہ کر جنسی مسائل کو مشورہ کرنا اور ان کا حل معلوم کر کے اپنی زندگی کو خوشگوار بنانا ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ ہماری غیر شرعی معاشرتی اقدار ہمیں ہمارے اس جائز حق سے محروم رکھے ہوئے ہیں۔
اسلام کی تعلیمات میں بکثرت جنسی معلومات دی گئی ہیں۔ قرآن و حدیث کی بے شمار نصوص میاں بیوی کے تعلق کو نہ صرف واضح کرتی ہیں بلکہ مباشرت کے جائز اور ناجائز طریقوں سے بھی آگاہ کرتی ہیں۔ نہایت افسوس کی بات ہے کہ جیسے ہم نے اس مادیت زدہ دور میں اسلام کی روحانی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا، اسی طرح اسلام کی ان تعلیمات کو بھی بے شرمی کی باتیں قرار دیتے ہوئے ان سے بھی صرف نظر شروع کر دیا جو ایک مسلمان کے تکمیل ایمان کی ضامن ہیں۔ من گھڑت شرم و حیاء کا لیبل جہاں ایک طرف شریعت اسلامیہ کی اتباع کرنے والوں کو ضروری جنسی معلومات کے حصول سے محروم کر دیتا ہے، وہیں شریعت کو بوجھ سمجھنے والوں کو جنسی معلومات کے حصول کے لئے شتر بے مہار کی طرح مغرب کی تقلید کے لئے کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ یہ دوغلاپن ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ مباشرت سے واقفیت نہ رکھنے والوں کے ساتھ اکثر و بیشتر ہولناک واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔
ہر بالغ مرد اور عورت کو اس سے آگہی نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان کی ازدواجی زندگی کا انحصار زیادہ تر اسی معلومات پر ہوتا ہے۔ جو لوگ مباشرت سے واقفیت نہیں رکھتے وہ اپنی ازدواجی زندگی کا صیحح لطف نہیں اٹھا سکتے۔ مباشرت سے واقفیت کوئی گناہ نہیں بلکہ یہ قدرت کی عطا کردہ ہے شمار نعمتوں میں سے ایک ہے۔
اکثر لوگ جنسی فعل کو ادا کرنا ایک فرض سمجھتے ہیں اور ان کے نزدیک اس دوران میں لطف اندوز ہونا شاید کوئی غیرشرعی حرکت ہے، جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ قدرت نے انسان کے گرد بہت ساری نعمتیں بکھیر دی ہیں، جنہیں انسان بوقت ضرورت بہترین تفریح کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔ عورت بھی مرد کی ضرورت کے تحت وجود میں آئی ہے اور اس کی موجودگی سے انسان اپنی دوسری تفریحات کو پس پشت ڈال دیتا ہے اور یوں عورت دوسری تمام نعمتوں پر فوقیت حاصل کر لیتی ہے۔ عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔

کسی عورت سے جنسی تعلقات صرف اسی وقت استوار کئے جا سکتے ہیں جب مرد نے اسے جائز طریقے سے اپنے لئے حاصل کیا ہو اور اسلام میں وہ جائز طریقہ صرف نکاح ہے۔
ہر نعمت کو استعمال کرنے کا ایک مخصوص طریقہ ہے۔ اسی طرح مباشرت سے واقفیت بھی عورت جیسی عظیم نعمت کو استعمال کرنے کا صحیح اور جائز طریقہ ہے، پس اس طریقہ سے واقفیت کوئی گناہ نہیں ہے۔
اچھا لباس، عمدہ غذا اور بناؤ سنگھار وغیرہ کے علاوہ بھی عورت کی بعض ضروریات ہوتی ہیں۔ یہ ضروریات تو ظاہری ہیں، لیکن عورت کی ایک ضرورت ایسی بھی ہوتی ہے، جسے وہ زبانی بیان نہیں کر سکتی۔ لیکن جب قوت برداشت ختم ہو جائے تو وہ اسے کہنے سے گریز نہیں کرتی۔ یہ مطالبہ ایسا ہے کہ اس کے پورا ہونے کے بعد اگر اس کے دوسرے مطالبات بہتر طور پر پورے نہ بھی ہوں تو بالعموم وہ گلہ نہیں کرتی۔
مرد کو چاہیے کہ عورت کے اس مطالبے پر خاص توجہ دے، جسے وہ کہہ نہیں پاتی۔ جو لوگ اس سے واقفیت نہیں رکھتے وہ کامیاب زندگی نہیں گزار سکتے۔ ان کی بیویاں یا تو طلاق کی صورت میں ان سے علیحدگی اختیار کر لیتی ہیں یا پھر اپنی اور اپنے شوہر کی عزت سے کھیلتے ہوئے غیر مردوں سے تعلقات پیدا کر لیتی ہیں۔ اسی وجہ سے معاشرے میں برائیاں پھیلتی جا رہی ہیں۔ ایسی عورتیں جن کے شوہر انہیں مکمل جنسی تسکین نہیں دے سکتے، وہ اپنے شوہر کے ساتھ وفادار نہیں رہتی اور ان کی عزت و ناموس سے کھیلنا شروع کر دیتی ہیں۔
یہ بلاگ ان لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے جو اپنی جنسی بیماری یا مسائل کسی کو بتا نہیں سکتے یا بتانے سے شرم محسوس کرتے ہیں۔
کافی مشاہدے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے موضوع پر اظہار پسند نہیں کیا جاتا اور لوگ خاموشی سے اس دکھ کو سہتے ہیں اور اظہار نہیں کرتے۔ لوگ بات نہیں کرتے اور اپنا حق اور خوشیاں ضائع کر دیتے ہیں ۔
یہ بلاگ انھی لوگوں کی خوشیاں
لوٹانے کی کوشش ہے۔۔۔۔
اگر آپ کو اس بلاگ کی تحریر، مندرجات کسی بھی لحاظ سے ناگوار گزرتی ہیں تو آپ فوراً اس بلاگ سے لیفٹ ہو جائے ۔ اس بلاگ کے مواد سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں صدق دل سے معذرت خواہ ہوں اور اپنے ربِ کریم سے بھی معافی کا طلب گار ہوں جو اپنے بندوں کے گناہ معاف فرمانے والا ہے، چاہے وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
بے شک اللہ رحیم بھی ہے اور کریم بھی
اللہ ہم سب کی مغفرت فرمائےـ آمین
|
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں