<script async src="https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-3404148137114699" crossorigin="anonymous"></script>
مجبوری
بھوک اور اولاد اگر سب کرنے پر مجبور کرتی تو آج ہر غریب گھرانے کی خواتین کوٹھے پر طوائفوں کا کردار ادا کرتیں کوئی غریب عورت گھروں میں کام کر کے بچے نہ پالتی لوگوں کے برتن دھو کر صفائی کر کے اینٹوں کے بھٹے پر کام کر کے ٹیکسی چلا کر چھوٹی دکان چلا کر اپنے کمرے میں جنرل سٹور یا چوڑی سٹور لگا کر لیس بیچ کر سلائی کڑھائی کر کے سر پر چوڑیوں کے گچھے رکھ کر گلی گلی گھوم کر سڑکوں کی تعمیر میں اینٹ بجری سیمنٹ اٹھا کر جھاڑو لگا کر مختلف سکولوں میں چند ہزار روپے پر ملازمت کر کے وہ بچے نہ پالتی بلکہ جا کر کوٹھے پر بیٹھ جاتی
غریب غیرت مند بھی ہیں پانچ روپے کیلئے تنگ ہوں تو پانچ سو روپے دور کی بات ہے پچاس ہزار روپے کیلئے بھی جسم نہیں دے گی ہم نے غربت کو لے دے کر جسم فروشی سے جوڑ دیا ہے جسم فروشی ایک انتخاب ہے ورنہ محنت کر کے بچے پالنے والی خواتین ان خواتین کیلئے مشعلِ راہ ہیں جو آسان راستے کا انتخاب کر لیتی ہیں ورنہ مشکلات سے دو چار ہو کر بچے پالنے میں عزت بچ جاتی ہے مانتا ہوں کہ یہ دنیا ظالم ہے اور مشکلات کا سمندر منتظر رہتا ہے لیکن ان حالات میں جینے والے ہی تو کمال کرتے ہیں
..وہ شخص جو اپنا مال دکھاوے کے لئے خرچ کرتا ہے اور وہ اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان ہو جس پر کچھ مٹی ہو، پھر اس پر زور کا مینھ پڑے اور اس کو بالکل صاف کر دے ایسے لوگوں کو اپنی کمائی کچھ ہاتھ نہ لگے گی. 264 البقرہ
جو اپنا مال دکھاوے کے لئے خرچ کرتا ہے
اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کی مثال ایسی پتھر کی چٹان سے دی ہے جس کے اوپر مٹی جم جائے تو بظاہر وہ مٹی دکھائی دے گی. مگر بارش کو جھونکا آتے ہی مٹی کی اوپری تہ بہہ جائے گی اور اندر سے خالی پتھر نکل آئے گا. ایسا ہی حال اس انسان کا ہوتا ہے جو بس اوپری دین داری لئے ہوئے ہو. دین اس کے اندر داخل نہ ہوا ہو.
ایسے آدمی سے اگر کوئی سائل بے ڈھنگے انداز میں سوال کر دے یا کسی کی طرف سے کوئی ایسی بات سامنے آ جائے جو اس کی انا پر ضرب لگانے والی ہو تو وہ بپھر کر انصاف کی حدوں کو توڑ دیتا ہے. ایسا واقعہ ایک ایسا طوفان بن جاتا ہے جو اس کی اوپری "مٹی" کو بہا لے جائے اور پھر اس کا اندر کا انسان سامنے آ جاتا ہے جس کو وہ دین کے ظاہری لبادہ کے پیچھے چھپائے ہوئے تھا.

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں