<script async src="https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-3404148137114699" crossorigin="anonymous"></script>
پردہ بکارت فرج کی سیل کی حقیقت
اللہ رب العزت اس شخص کی روز قیامت گناہوں پر پردہ پوشی فرمائیے گا جو دنیا میں انسانوں کے گناہوں اور غلطیوں پر پردہ ڈالے گا
حساس موضوع لیکن میری بہنوں بیٹیوں کا پریشان کن مسلہ
پردہ بکارت فرج کی سیل کی حقیقت:
اللہ رب العزت نے پردہ بکارت اس لئے نہیں بنایا تھا کہ وہ عورت کے ساتھ ہونے والے زنائی ظلم کو چھپانا نہیں چاہتا یا عورت سے ہونے والے گناہ پر پردہ نہیں ڈالنا چاہتا اللہ کی مغفرت اور رحمت بہت زیادہ وسیع ہے اور اللہ سے گناہ پر توبہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کا بہت قریبی ہے اور ایسے ہے جیسے ابھی ماں کے پیٹ سے آیا ہو بلکل بے گناہ.
اللہ فرماتا ہے ہر انسان گناہ گار ہے مگر اچھا انسان وہ ہے جو توبہ کر لے
اللہ فرماتا ہے گناہوں پر توبہ کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو.
یہ تحریر ہمارے معاشرہ کے ان مردوں کے لئے ہے جو خود کو فرشتہ سمجھتے ہیں اور معافی و در گزر کو گناہ سمجھتے ہیں.
ہماری ہاں پردہ بکارت کے سلسلے میں غلط معلومات کی بھرمار ہے صرف اسی کو کنوارہ پن اور عصمت کی علامت سمجھا جاتا ہے یہ پردہ عورت کی فرج کے سوراخ میں ذرا اندر کی طرف موجود ہوتا ہے اکثر عورتوں کا یہ پردہ نرم و نازک ہوتا ہے اور پہلی بار ہمبستری میں آسانی سے پھٹ جاتا ہے جس سے معمولی تکلیف ہوتی ہے اورکچھ خون بھی نکلتا ہے اور کبھی بلکل خون نہیں نکلتا
بعض عورتوں میں یہ غیر معمولی تکلیف پر سخت ہوتا ہے جو کہ ہمبستری میں رکاوٹ اور تکلیف کا سبب بنتا ہے ، ایسی صورت میں معمولی آپریشن کی ضرورت ہوتی ہے
پردہ بکارت کی موجودگی یا عدم موجودگی کسی بھی طرح عورت کی باعصمت اور با کردار ہونے کا ثبوت نہیں ہے...
بہت سی بچیوں کا یہ پردہ کسی حادثے یا اچھل کود جھولے لینے یا رسہ ٹاپنے کی وجہ سے پھٹ جاتا ہے
کچھ کا ماہواری کے دوران میں پیڈ وغیرہ کے استعمال یا صفائی سے بھی پھٹ جاتا ہے
جب بچیاں کسی رحم یا شرم گاہ کی تکلیف کی وجہ سے ہسپتال جاتی ہیں تو ان بچیوں کا پردہ لیڈی ڈاکٹر چیک ایپ کرتے وقت پھاڑ دیتی ہے اور اس بات کو زہن سے نکال دیتی ہے کہ اس بچی کی ابھی شادی بھی ہونی ہے
بعض خواتین میں یہ سرے سے موجود ہی نہیں ہوتا اور کچھ خواتین کا ہمبستری کے دوران خون اور تکلیف کے بغیر ہی پھٹ جاتا ہے اور بہت سی خواتین میں پیدائش کے بعد فطری طور پر آہستہ آہستہ غائب ہونا شروع ہو جاتا ہے لہذا اس پردے کی عدم موجودگی ہرگز اس بات کا ثبوت نہیں کہ لڑکی بدکار گناہ گار ہے
باکرہ اور چنانچہ اس مسئلے کو کوئی ترجیح نہ دی جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہتریں شوہر کون
• جو اپنی بیوی کے ساتھ نرمی، خوش خلقی اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آئے
• جو اپنی بیوی کے حقوق ادا کرنے میں کسی قسم کی غفلت اور کوتاہی نہ کرے
• جو اپنی بیوی کا اس طرح ہو کر رہے کہ کسی اجنبی عورت پر نگاہ نہ ڈالے
• جو اپنی بیوی کو اپنے عیش و عشرت میں برابر شریک سمجھے
• جو اپنی بیوی پر کبھی ظلم اور کسی قسم کی بے جا زیادتی نہ کرے
• جو اپنی بیوی کی خوبیوں پر نظر رکھے اور معمولی غلطیوں کو نظر انداز کرے
• جو اپنی بیوی کی مصیبتوں بیماریوں اور رنج و غم میں دل جوئی تیمارداری اور وفاداری کا ثبوت دے
• جو اپنی بیوی کو پردہ میں رکھ کر عزت و آبرو کی حفاظت کرے
• جو اپنی بیوی کو ذلت و رسوائی سے بچائے رکھے
• جو اپنی بیوی کو دینداری کی تاکید کرتا رہے اور شریعت کی راہ پر چلائے
• جو اپنی بیوی کے اخراجات میں بخیلی اور کنجوسی نہ کرے
• جو اپنی بیوی پر اس طرح کنٹرول رکھے کہ وہ کسی برائی کی طرف رخ بھی نہ کر سکے.

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں