جمعہ، 10 فروری، 2023

Importance and virtues of marriage 1

 <script async src="https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-3404148137114699"

     crossorigin="anonymous"></script>



شادی کی اہمیت اور فضائل ...

امام ابن القيم  رحمه الله شادی کی ترغیب دیتے ہوئے لکھتے ہیں : اگر شادی کی اہمیت و فضیلت میں صرف

نبی صلی الله علیه وسلم کا روز قیامت اپنی امت کو دیکھ کر خوش ہونا ہی ہوتا تو کافی تھا۔

موت کے بعد نیک عمل کا (بصورت صالح اولاد) جاری رہنا ہی ہوتا تو کافی تھا۔

ایسی نسل جو الله کی وحدانیت اور نبی کی رسالت کی گواہی دیتی ہو، کا پیدا ہونا ہی ہوتا تو کافی تھا۔

محرمات سے آنکھوں کا جھک جانا اور شرمگاہ کا محفوظ ہو جانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔

کسی خاتون کی عصمت کا محفوظ ہو جانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔ میاں اور بیوی اپنی حاجت پوری کرتے ہیں، لذت اٹھاتے ہیں اور ان کی نیکیوں کے دفتر بڑھتے چلے جاتے ہیں !

مرد کا بیوی کے پہننے اوڑھنے، رہنے سہنے اور کھانے پینے پر خرچ کرنے کا ثواب ہی ہوتا تو کافی تھا۔

اسلام اور اس کے ماننے والوں کا بڑھنا اور اسلام دشمنوں کا اس پر پیچ و تاب کھانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔

بہت سی عبادات، جو تارکِ دنیا درویش نہیں بجا لا سکتا، کا بجا لانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔

دل کا شہوانی قوت پر قابو پا کر دین و دنیا کیلیے نفع مند کاموں میں مشغول ہو جانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔ کیونکہ دل کا شہوانی خیالات میں گِھر جانا، اور انسان کا اس سے چھٹکارے کی جد و جہد کرتے رہنا بہت سے مفید کام نہیں ہونے دیتا۔

بیٹیوں کا، جن کی اس نے اچھی پرورش کی اور ان کی جدائی کا غم سہا، جہنم سے ڈھال بن جانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔

دو بچوں کا کم عمری میں فوت ہونا جو اس کے جنت میں داخلے کا سبب بن جاتے، ہی ہوتا تو بہت کافی تھا۔
الله کی خصوصی مدد کا حاصل ہو جانا ہی ہوتا تو بہت کافی تھا۔
کیونکہ جن تین لوگوں کی اعانت الله کے ذمے ہے، اس میں 

ایک پاکیزگی کی خاطر نکاح کرنے والا بھی ہے۔










مختلف حالتوں میں نکاح کے مختلف حکم
سوال :

نکاح کرنا کب فرض، واجب، سنت، حرام اور مکروہ ہوتا ہے؟

جواب :

حامدا ومصلیا ومسلما

فرض

اگر کوئی شخص بیوی کے حقوق اَدا کرنے پر قدرت رکھتا ہو، اور صورتِ حال ایسی ہو کہ اگر وہ نکاح نہ کرے، تو معصیتِ زنا میں پڑنے کا یقین یا غالب گمان ہے، تو ایسے شخص پر نکاح کرنا فرض ہے۔

واجب،

اگر کسی پر شہوت کا غلبہ ہے کی شادی نہ کرے تو زنا میں مبتلا ہونے کا خوف ہے لیکن یقین نہیں، اور اس کو بیوی کے نان و نفقہ پر قدرت بھی حاصل ہے ایسے شخص پر شادی کرکے اپنی عصمت کی حفاظت واجب ہے

سنت

اگر کوئی شخص نکاح کے قابل ہوگیا نان نفقہ پر قدرت حاصل ہے اور ہمبستری پر بھی قدرت ہے نکاح سے کوئی اور شرعی رکاوٹ موجود نہیں ایسے شخص کے لئے نکاح کرکے باعزت زندگی گزارنا شرعاً مسنون ہیں، کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دائمی عمل ہے اور شادی سے اعراض کرنے والوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفرت کا اظہار فرمایا

لہذا ایسا شخص اتباع سنت کی نیت سے اپنی عصمت پاکدامنی کی حفاظت اور صالح اولاد کے حصول کی نیت سے شادی کرے تو اجر ثواب ہوگا،

مکروہ تحریمی

جس شخص کو بیوی پر ظلم کا یقین تو نہ ہو، لیکن غالب گمان یہی ہے کہ ظلم ہو جائے گا ایسے شخص کے لئے جب تک ادائے حقوق پر قدرت نہ ہو نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہیں،

حرام

اگر کسی شخص میں بیوی کے حقوق ادا کرنے کی طاقت نہ ہو مثلاً نا مرد ہے یا نان نفقہ پر حقیقتا یا حکما قادر نہیں نیز مزاج کی سختی وغیرہ۔
کسی وجہ سے اس کو یقین ہے کہ بیوی کے حقوق بالکل اَدا نہیں کرپائے گا، تو ایسے شخص کے لئے نکاح کرنا حرام ہے

ازدواجی زندگی کے شرعی مسائل
در مختار ۷/۳

واللہ اعلم بالصواب

1)لڑکی مُحبت نہیں کرتی، صرف ہمسفر ڈھونڈنے کے لیے مُختلف لوگوں کو پرکھتی ہے، آپ نے کبھی بھی نہیں سُنا ہو گا کہ فلاں عورت کسی کی مُحبت میں پاگل ہوگئی، ذہنی توازن کُھو چُکی،
لاکھوں لوگ کنوارے مر گئے کسی کی جُھوٹی مُحبت میں، کہی پاگل خانوں کی نظر ہوئے، کہی مزاروں پہ بیٹھے اپنی موت کا انتظار کر رہے ہیں، کہیوں نے اپنی زندگی گناہوں سے بھر لی، مُحبت مرد کی داستان ہوتی ہے جب کہ عورت کی زندگی کا معمولی سا واقعہ اور یہی حقیقت ہے
                                                    
  2 )  کسی بھی عورت کے لیے یہ ہرگز مناسب نہیں کہ وہ اپنی محبت کو ثابت کرنے کے لئے کسی کو اپنے جسم تک رسائی دے۔
اگر لڑکا محبت کو آزمانے کے لیے ثبوت کے طور پر کسی لڑکی سےاس کا جسم  مانگتا ہے تو اس لڑکی کو چاہیے کہ وہ اس لڑکے سے کہے کہ پہلے تم سب کے سامنے مجھ سے نکاح کر کے اپنی محبت کو ثابت کر دو پھر میں پوری زندگی کے لیے اپنا جسم اور وہ صرف اور صرف تمہیں سونپ کر اپنی جائز اور سچی محبت ثابت کروں گی۔  

                                                            
3) پتہ ہے مرد کی کون سی خوبی پر عورت فدا ہو جاتی ہے..کہ جب وہ کسی عورت سے محبت کرتا ہے یا اسے پسند کرتا ہے  تو وہ سب سے پہلے اس سے اپنا رشتہ "حلال" بناتا ہے..اس سے "نکاح" کرتا ہے..یہیں سے عورت کا مرد پہ اعتبار بڑھ جاتا ہے..اور مرد کا وقار عورت کی نظر میں مزید بڑھ جاتا ہے


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں