<script async src="https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-3404148137114699"
crossorigin="anonymous"></script>نکاح میں "خاندان و برادری" کا اعتبار
سوال :
نکاح کے بارے میں اسلام بھی خاندان کا اعتبار کرتا ہے؟ فلاں خاندان یا فلاں برادری ہی میں ہم تو نکاح کریں گے یہ سوچ صحیح ہے؟
جواب :
حامدا ومصلیا ومسلما
ہر خاندان کے رہن سہن کھانے پینے کی چیزیں اور اس کے طریقہ اور اوقات خاندان کے رسم و رواج زبان وغیرہ چیزیں الگ الگ ہوتی ہیں، رشتہ محبت باقی رہے اور آپس میں کسی قسم کا جھگڑا نہ ہو اس لیے ان چیزوں کو آپس میں ملنا ضروری اور بہتر ہے،
اور اونچے خاندان والے نیچے خاندان والے لڑکے سے نکاح کریں تو انسانی مزاج اسے عیب اور شرم سمجھتا ہے، حالانکہ یہ چیزیں عیب اور شرم کی نہیں ہیں اور ہر چیز میں اصل طریقہ تو شریعت ہی کا ہونا چاہیے اور اصل عزت کی چیز تقویٰ اور پرہیز گاری ہے، لیکن شریعت نے نکاح کے نازک رشتے کو نبھانے کے لیے کفو کی رعایت کو ضروری قرار دیا، ساتھ ساتھ میں نکاح کے والی کی اجازت سے غیر برابری میں نکاح کرنے کا اختیار دے کر اصل شرعی قانون بھی ملحوظ رکھا۔
درس ترمذی ۴/۳۴۹ سے ماخوذ
و اللہ اعلم الصواب
نکاح کے لیے عمر کی حد؟
سوال :
شریعت کم عمری میں شادی کی اجازت دیتی ہے؟ یا اس کے لیے عمر کی کوئی حد ہے؟ کس عمر میں نکاح کرنا بہتر ہے؟
جواب :
حامدا و مصلیا و مسلما
نکاح کے شرعاً کوئی متعین مدت نہیں ہے، بلکہ عمر کے کسی بھی حصے میں نکاح ہو سکتا ہے البتہ بالغ ہونے سے پہلے لڑکا یا لڑکی خود نکاح کا عقد نہیں کر سکتے، بلکہ ان کے ولی والد،یا دادا غیرہ ان کی مصلحتوں کو مدنظر رکھ کر نکاح کر سکتے ہیں،
صحیح احادیث کے مطابق عمل المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح ۶ سال کی عمر میں ان کے والد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کر دیا تھا اور نو سال کی عمر میں آپ رضی اللہ تعالی عنہا کی رخصتی عمل میں آئی،،
لہذا جب لڑکا لڑکی دونوں بالغ ہوجائے اور حقوق زوجیت کی ادائیگی پر قادر ہو جائے تو فوراً نکاح کرلینا بہتر ہے، فتنوں سے بچانے کا بہترین راستہ یہی ہے،
نوٹ:-
انڈیا کے نئے قاعدہ کے اعتبار سے پندرہ سال کی لڑکی کا نکاح بھی قانونا بھی صحیح ہے، حیدرآباد ہائی کورٹ کا فیصلہ
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
ماخوذ دارالافتاء دارالعلوم دیوبند فتوی نمبر ۴۲۲۴۱
ماخوذ دارالافتاء
جامعۃ العلوم اسلامیہ بنوری ٹاون فتویٰ نمبر ۱۴۴۰۰۸۲۰۰۶۳۵
واللہ اعلم بالصواب
تعویذ
یہ جو عورتیں تعویذ لینے آتی ہیں ناں کہ حضرت تعویذ دیں میرا خاوند میرے ساتھ ٹھیک نہیں تو مجھے بڑی حیرانی ہوتی ہے ۔
حیرت کی بات ہے کہ یہ جوان العمر بیوی ہے اور اللہ تعالٰی نے اس کو عقل دی ، سمجھ دی ، تعلیم دی ، شکل دی سب کچھ دیا اور یہ تعویذ مانگتی پھرتی ہ۔
یاد رکھنا عورت اگر نیکوکار سمجھدار ہو تو اس کی ہر ادا مرد کے لئے تعویذ ہوتی ہے ۔
اللہ نے مرد کے دل میں عورت کی کشش ہی ایسی رکھ دی ہے ، مرد کے دل میں عورت کی مقناطیسیت ہی ایسی رکھ دی ہے کہ عورت کی ہر ادا مرد کے لئے تعویذ ہوتی ہے ۔
تو اللہ نے تمھیں تو اداؤں کے تعویذ دیئے ۔
باتوں کے تعویذ دیئے ان تعویذوں کو کیوں نہیں استعمال کرتیں ۔
کاغذ کے تعویذوں کے پیچھے کیوں بھاگتی پھرتی ہو ۔
نتیجہ کیا ہوتا ہے کہ تھکا ہوا خاوند آتا ہے اور آگے سے بیوی بھی تھکی بیٹھی ہوتی ہے ۔
اب تھکا ہوا بندہ تھکی ہوئی بیوی سے کیا فرحت پائے گا ۔
تو فریش (تروتازہ) ہوا کریں جب خاوند آئے اور اس کے سامنے محبت پیار کی باتیں کیا کریں ، کھلے چہرے سے استقبال کیا کریں اور ایسے انداز اپنایا کریں کہ خاوند خوش ہو جائے ۔
پھر دیکھیں کہ گھر کے اندر کیسے خوشیاں آتی ہیں ۔
ملفوظات حضرت پیر جی ذوالفقار احمد نقشبندی صاحب دامت برکاتہم


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں