<script async src="https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-3404148137114699"
crossorigin="anonymous"></script>اورل سیکس
میاں بیوی کا اورل سیکس یعنی منہ کے ذریعہ جنسی عمل سر انجام دینا یا اعضاء تناسل (شرم گاہ) کو منہ میں لے کر چوسنا اور چاٹنا کے بارہ میں حکم جاننے سے قبل چند شرعی اصولوں کو سامنے رکھیں
1)- دین اسلام طہارت وپاکیزگی کا درس دیتا ہے اور نجاست و گندگی سے دور رہنے کو لازم قرار دیتا ہے۔ اللہ تعالى کا فرمان ہے: اور گندگی کو دور پھینک [المدّثر : 5] نیز فرمایا : یقینا اللہ تعالى بہت زیادہ توبہ کرنے والوں اور پاکیزہ رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ [البقرة : 222]
2)- دین اسلام ذی شان کاموں کا حکم دیتا اور گھٹیا اور رذیل کاموں سے منع کرتا ہے۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: یقینا اللہ تعالى باعزت ہے اور عزت ‘ اور اخلاق عالیہ کو پسند فرماتا ہے اور گھٹیا عادتوں کو ناپسند فرماتا ہے۔
مستدرک حاکم: 152
3)- اسلام حلال اور پاکیزہ اشیاء کو کھانے کا حکم دیتا ہے اور خبیث کو حرام کرتا اور اس سے اجتناب کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ا للہ تعالى کا فرمان ہے: اے لوگو! زمین میں جو حلال اور پاکیزہ ہے اس میں سے کھاؤ اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو‘ یقینا وہ تمہارا واضح دشمن ہے۔
[البقرة : 168]
4)- دین اسلام میں جن چیزوں کو حرام کیا گیا ہے انکے قریب جانے سے بھی منع کر دیا گیا ہے اور ایسے امور جنکا حلال ہونا واضح نہیں ہے ان سے بھی دور رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالى کا فرمان ہے: اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ کیونکہ وہ فحاشی اور برا راستہ ہے۔
[الإسراء : 32]
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے ‘ اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں‘ جنہیں بہت زیادہ لوگ نہیں جانتے ۔ تو جو ان مشتبہ امور سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا۔ اور جو شبہات میں داخل ہوگیا اسکی مثال اس چرواہے کی سی ہے جو اپنی بکریوں کو ممنوعہ علاقہ کے قریب قریب چراتا ہے ‘ ہوسکتا ہے کہ اسکی بکریاں اس ممنوعہ علاقہ میں داخل ہو جائیں۔ خبردار! ہر حکومت کے کچھ ممنوعہ علاقے ہوتے ہیں اور اللہ تعالى کے ممنوعہ علاقے اسکے حرام کردہ امور ہیں۔ صحیح البخاری: 52 صحیح مسلم(1599) میں یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ ہے : اور جو مشتبہ کاموں میں پڑ گیا ‘ وہ حرام میں داخل ہوگیا۔ یعنی مشتبہ امور سے بچنا بھی فرض ہے اور ان کاموں میں پڑنا حرام ہے۔
5)- ضرر رساں اور نقصان دہ اشیاء کو شریعت نے حرام کیا ہے ۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: نہ نقصان اٹھانا ہے اور نہ ہی نقصان پہنچاناہے۔
(سنن ابن ماجه : 2340)
6)- جو کام مؤمن کے دل میں کھٹک جائے وہ گناہ ہے۔ اللہ رب العالمین کا فرمان ہے: اور لیکن اللہ تعالى نے ایمان کو تمہارے لیے محبوب بنایا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں مزین فرما دیا ہے ‘ اور کفر ‘فسق‘ اور نافرمانی کو تمہارے لیے ناپسندیدہ بنا دیا ہے۔ (جن کے دلوں کی یہ کیفیت ہو) وہی لوگ نیکوکار ہیں۔ [الحجرات : 7]
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ذی شان ہے: نیکی اچھا اخلاق ہے‘ اور گناہ وہ ہے جو تیرے سینے میں کھٹک جائے‘ اورلوگوں کے اس پر مطلع ہونے کو تو ناپسند کرے۔
(صحیح مسلم: 2553)
ان بنیادی اصولوں کو سمجھ لینے کے بعد اورل سیکس کی حرمت نکھر کر سامنے آ جاتی ہے۔ کیونکہ مذی مرد کی ہو یا عورت کی ناپاک ہی ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اسے دھونے اور صاف کرنے کا حکم دیا ہے ۔اور بحالت شہوت مرد کے ذکر سے بھی اور عورت کی فرج یعنی شرم گاہ سے بھی نکلنے والی رطوبت مذی کہلاتی ہے جو کہ نجس بھی ہے اور حرام بھی۔ ا گر کوئی مرد اپنی بیوی کی شرمگاہ چوستا یا چاٹتا یا اسے منہ لگاتا ہے تو اسکا منہ اس نجاست سے نہیں بچ سکتا۔ اسی طرح اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے ذکر (آلہ تناسل) کو منہ میں داخل کرے اور چوسے اور جنسی عمل کروائےتو وہ بھی غلبہ شہوت کی بناء پر نکلنے والی مرد کی مذی سے نہیں بچ سکتی بلکہ وہ مذی انکے منہ میں داخل ہوکر لعاب کے ساتھ شامل ہو جاتی ہے اور بسا اوقات لعاب نگلنے کی صورت میں معدہ تک بھی جا پہنچتی ہے۔ اور یہ نہایت ہی گھٹیا اور رذیل حرکت ہے۔
جبکہ شریعت اسلامیہ نجاست سے دور رہنے کا حکم دیتی‘ نجس اور خبیث کو حرام قرار دے کر اسے کھانے پینے سے منع کرتی ‘ اور گھٹیا عادتوں سے بچنے کا حکم کرتی ہے۔ کوئی بھی مرد اس بات کا انکار نہیں کرسکتا کہ اسکے ذکر سے مذی نہیں نکلتی کیونکہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ہر مرد مذی خارج کرتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ کسی کی مذی زیادہ خارج ہوتی ہے اور کسی کی کم‘ بہر دو صورت اورل سیکس کی حرمت ہی ثابت ہوتی ہے‘ کیونکہ اگر مرد کی مذی بہت ہی کم بھی نکلتی ہو تب بھی جس وقت ذکر اسکی بیوی کے منہ میں داخل ہوگا کوئی یقینی بات نہیں کہ مذی نہ نکلے ‘ بلکہ غالب گمان یہی ہے کہ مذی نکلے گی۔ اورشبہات میں پڑنے کو بھی شریعت نے حرام قرار دیا ہے۔ اور
بسا اوقات غلبہ شہوت کی بناء پر میاں صاحب اپنی بیوی کے منہ میں ہی منی نکال دیتے (ڈسچارج ہو جاتے) ہیں جو کہ اس سے بھی قبیح عمل ہے۔
شریعت گندگی کو دور پھینکنے کا حکم کرتی ہے جبکہ اورل سیکس کرنے والے گندگی کو منہ میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جدید میڈیکل سائنس بھی اس بات کو ثابت کر چکی ہے کہ اورل سیکس کے نتیجہ میں منہ کا سرطان (کینسر) پیدا کرنے والا وائرس (HIV) کا سبب بنتا ہے۔ جبکہ شریعت اسلامیہ مضر صحت امور و اشیاء سے منع کرتی اور انہیں حرام قرار دیتی ہے۔ اور اسی طرح اورل سیکس ایسی برائی ہے کہ کسی مؤمن کا دل اس پر مطمئن نہیں ہوتا‘ اور یہ اسکے دل میں کھٹکتا رہتا ہے۔ جوکہ اس عمل کے گناہ ہونے کی ایک واضح دلیل ہے۔ ان تمام تر دلائل کی رو سے اورل سیکس کی حرمت. (یعنی حرام ہونا) ہی. ثابت ہوتی.ہے
مزید معلومات کے لئے قرآن پاک اور حدیث کا مطعالہ کریں شکریہ.
اورل سیکس کی حقیقت
پورن انڈسٹری میں ایک ایسا جنسی طریقہ متعارف کروایا گیا ۔ جو براہ راست کینسر ، گلوریا اور دیگر تباہ کن بیماریوں کا موجب ہے ۔ اس طریقہ کار کو اورل سیکس کہتے ہیں ۔ آپ نے ایک چیز اکثر نوٹ کی ہوگی ۔ پورن فلم کی چاہے کوئی بھی کیٹیگری ویڈیو دیکھ لیں ۔ فلم کے سٹارٹ میں اورل سیکس کا مظاہرہ ضرور کیا جاتا ہے ۔ ایسے لگتا ہے جیسے یہ بھی ایک باقاعدہ جنسی عمل کا حصہ ہے ۔۔!
سائنسی میڈیکل رپورٹ کے مطابق ہمارے جسم میں ایک مادہ منی کے ساتھ خارج ہوتا ہے ۔ جو ڈی این اے میں اکثر خرابی کا باعث بنتا ہے ۔ اگر وہ منہ کے ذریعے معدے میں چلا جائے یا دانتوں میں اسکی کوئی باقیات رہ جائیں ۔ تو وہ منہ کے خلیات میں p16 پروٹین نامی مادہ پیدا کر دیتاہے
جو منہ کے کینسر اور بلڈ پرابلمز کو جنم دیتا ہے اور یہ وہ بیماریاں ہیں جن کا علاج یہودی لیبارٹریوں کے علاوہ کہیں نہیں ملتا۔
ان بیماریوں کی تمام دوائیاں اسرائیلی کمپنیز سے نہایت مہنگے داموں فروخت کرتی ہیں ۔ ان بیماریوں سے متاثرہ مریضوں کے چہرے بدل جاتے ہیں اور موت سسک سسک کر آتی ہے ۔ لہذا اورل سیکس کے شوقین شوق پورا کرنے سے پہلے چشم تصور میں اپنا انجام بھی سوچ لیں ۔۔۔!
اورل سیکس دراصل خفیہ یہودی ایجنسیز کا ذریعہ آمدنی ہے ۔
اسی کے ذریعے لوگ ان کا شکار بنتے ہیں اور انھیں لاکھوں ڈالر لٹاتے ہیں۔
اورل سیکس کے ساتھ سکیٹ ایٹنگ اور پس ڈرنکنگ سیکس کی ویڈیوز بھی منظر عام پر آرہی ہیں ۔ جو کہ یہودی ایجنسیز کی سازش کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔
ان پورن ویڈیوز میں کام کرنے والے اداکاروں کو شوٹنگ کے فوری بعد، ان کے منہ میں مخصوص سپرے کیے جاتے ہیں جو منہ میں گری غلاظت کے تمام جراثیم ختم کر دیتے ہیں ۔ ہمارے عام علماء کا خیال ہے کہ پورن ویڈیوز صرف مسلمانوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال ہوتی ہیں ۔
حقیقتا ایسا نہیں ہے۔ یہودی ایجنسیز کا ٹارگٹ پوری دنیا کے مذاہب ہیں ۔ کیونکہ تمام مذاہب ان کے انتہا پسند نظریات کو ہر صورت رد کرتے ہیں !
آج اگرچہ مسلمانوں کی اکثریت بھی اسکا شکار ہیں ۔ لیکن پھر بھی ہم اپنے مذہب ،ثقافت اور نسل کو لیے برابر چل رہے ہیں ۔ جبکہ مغربی معاشرہ اس قدر ٹوٹ چکا ہے کہ آرٹیفشل بچے پیدا کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔۔!
2013
میں امریکی پارلیمنٹ میں اس بات کا اعتراف کیا گیا تھا کہ 2050 تک اسلام کی افرادی پاور پورے یورپ پر حاوی ہو جائے گی ۔ لہذا اسلام کو ہر طرف سے گھیر کر محدود کیا جائے ۔ پو لیو کے قطرے اور لوگوں کے دلوں میں اسلام کیلئے نفرت پیدا کر کے انھیں اپنے آزاد معاشرے کا حصہ بنا یا جائے تاکہ بچوں کی پیدائش کو کم کیا جاسکے
یہی وجہ ہے آج پوری دنیا میں اسلامی شدت پسندی دکھائی جا رہی ہے ۔ سوشل میڈیا پر ملحد اسلام کو نوچ رہے ہیں ۔ سیاست میں بڑے بڑے لبرل داخل کیے جا رہے ہیں ۔ مقبوضہ علاقوں مسلمانوں کا قتل عام کروایا جارہا ہے ۔ کیونکہ دشمن جان چکا ہے کہ اسکا ہتھیار خود اسکی قوم کو ختم کرچکا ہے لیکن جاتے جاتے مسلمان پر آخری وار ضرور کرتے جاؤ۔۔۔!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں