اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجسم خاکی کو مختلف اعضاء کی نعمتوں سے نوازا ہے۔ اگرچہ ہر عضو کی اپنی ایک اہمیت اور ضرورت ہے لیکن انسانی جسم میں ایک عضوء ایسا ہے کہ اگر وہ عضو نہ ہو تو دوسرے تمام اعضاء کو اپنے کام اندازے سے یا دوسرے کسی انسان کے سہارے انجام دینا ہوگا۔ وہ عضو آنکھ ہے، یہ عضوء صحیح سالم ہے تو انسان کے لئے رنگ و نور اور چمک دمک بامعنی ہے بصورت دیگر تمام رنگینیاں اور روشنیاں بے معنی ہیں۔ یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جس طرح آنکھ ایک عظیم نعمت ہے بالکل اسی طرح اس کا صحیح استعمال بھی خدائی انعام ہے۔
اس حوالے سے موجودہ وقت میں ہماری پریشانی یہ ہے کہ ہم جلوت (لوگوں کے بیچ) میں جنس مخالف کی غیرشرعی لباس اور چلن کی وجہ سے اور اس سے کہیں زیادہ اپنی بداحتیاطی کی وجہ سے اکثر بدنظری کے شکار ہوجاتے ہیں اور جہاں تک خلوت (تنہائی) کی بات ہے تو ماقبل اسمارٹ فون ہم سب تقریبا بدنظری سے محفوظ تھے لیکن اب اللہ کی پناہ! انٹر نیٹ نے جسمانی طور پر کسی کے پاس نہ رہنے کے باوجود ہم میں سے بہت سارے لوگوں کے لئے بدنظری کے بیشمار دروازے کھول دیئے ہیں۔ یہ بنیادی وجوہات میں سے ایک وجہ ہے جس نے ہماری روحانیت اور اللہ کے حضور خشوع و خضوع کے جنازے نکال دیئے ہیں۔
ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ خلوت و جلوت میں اگر ہم اپنی نفسانی خواہشات پر فتح حاصل کرکے نظر کو قابو کرلینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یقیناً اس سے ہم وہ روحانی ترقی حاصل کرلیں گے جو مہینوں کی نفلی عبادت اور ریاضت سے بھی حاصل نہیں کرسکتے۔ اس کی صاف وجہ یہ ہے کہ جب ہم اس طرح نظر کی حفاظت کرکے اپنی نفسانی خواہشات کی قربانی دیتے ہیں تو ہر قدم پر ہم اللہ تعالیٰ سے قریب ہوتے ہیں اور روحانیت کے منازل طے کرتے ہیں۔
افسوس ہے کہ کچھ لوگ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ بسا اوقت نظر کو قابو میں کرنا مشکل ہوتا ہے اور ہم نہ چاہتے ہوئے بھی بدنظری کے مرتکب ہوجاتے ہیں۔
اس تعلق سے دوٹوک بات یہ ہے کہ اصل مسئلہ کوشش نہ کرنے اور اِس عمل کی گندگی کو اپنے ذہن میں نہ لانے کا ہے۔ کیونکہ اگر کوئی شخص کسی چیز کی بُرائی اور تباہ کاری کو ذہن میں رکھے گا تو وہ اُس سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔
اس کو ایک مثال سے اِس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ہمارے سامنے نشہ آور کوئی چیز رکھ دے اور ہم اُس کی تباہ کاریوں سے واقف بھی ہوں— تو کیا ہم اُس کو ہاتھ بھی لگائیں گے؟ اِس کا واضح جواب ہے 'نہیں'۔ بعینہ اسی طریقے پر اگر ہم بدنظری کی تخریب کاریوں کو پیشِ نظر رکھیں گے تو ہر حالت میں ہمارے لئے اِس سے بچنا ممکن ہوجائے گا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: 'نگاہ' ابلیس کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔ (اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں) جو اسے میرے خوف سے چھوڑ دے تو میں اس کے بدلے اسے ایسا ایمان عطا کروں گا جس کی مٹھاس وہ اپنے دل میں محسوس کرے گا. (الترغیب والترہیب) بدنظری کے نقصانات کا اگر مختصراً جائزہ لیا جائے تو چند ہوش رُبا حقائق سامنے آتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ اللہ رب العزت کے حکم کی صریح نافرمانی ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کتابِ ہدایت قرآن مجید میں مرد اور عورت دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم فرمایا ہے۔ اسی طریقے سے اوپر مذکور حدیث کی روشنی میں اگر کوئی شخص بد نظری کرتا ہے تو وہ شیطان کا آلہ کار بن جاتا ہے؛ جس کے نتیجے میں ایمان کی حلاوت سے وہ شخص محروم ہوجائے گا اور کسی نیک کام میں اُس کا دل ہی نہیں لگے گا۔
دنیاوی اعتبار سے بھی بدنظری کے نقصانات بے شمار ہیں۔ایک نقصان جو حکماء بتلا تے ہیں وہ یہ ہے کہ انسان اس عمل سے جنسی اور ذہنی اعتبار سے کمزور ہوجاتا ہے اور ایک دوسرا نقصان یہ ہے کہ اگر بدنظری والی حرکت شریف لوگوں کی نظر میں آجائے تو ذلت و رسوائی کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
بدنظری سے بچنے کا سب سے بہتر ین طریقہ وہی ہے جس کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں بتلادیا ہے. چنانچہ سورہ نور کی آیت 30 اور 31 میں ارشاد ہے: 'آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی آنکھوں کو نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ اُن کے لئے صاف ستھرا طریقہ ہے، وہ جو کچھ کرتے ہیں، یقیناً اللہ کو اِن سب کی خبر ہے، اور مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زیبائش و آرائش کو ظاہر نہ کریں۔ ' یہاں یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ ہماری نگاہیں ہر وقت معقول حد تک جھکی رہنی چاہئے (نظر جھکانے کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ کسی چیز سے جاکر ٹکرا جائیں)، ہاں بقدر ضرورت نظریں اوپر اُٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ کچھ لوگوں کا عمل یہ ہوتا ہے کہ جب ممنوعہ چیز پر نظر پڑجاتی ہے، تب نظریں جھکا تے ہیں، ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ اس صورت میں غلطی میں پڑنے کا زیادہ خدشہ ہے اور یہ تقویٰ کے خلاف بھی ہے۔
علمائے شریعت نے پہلی نظر کو معاف لکھا ہے لیکن کچھ لوگ اس کا غلط مطلب بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حقیقتاً پہلی نظر کے معاف ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نظریں نیچی کئے چل رہا ہے اور غیرارادی طور پر اس کی نظر غیرمحرم جنسِ مخالف پر پڑجاتی ہے تو یہ معاف ہے۔ اس کا مطلب قطعاً یہ نہیں ہے کہ آدمی منہ اٹھاکر چلتا رہے اور سامنے آنے والی جنس مخالف کو نظر بھرکر دیکھ لے؛ پھر اس کے بعد نگاہیں نیچی کرے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اگر ہم ایک پاکیزہ زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو ہمیں سرعام اور تنہائی میں بھی نظر کی حفاظت کرنی ہوگی اور قلب و دماغ کو بدنظری کے تیر سے زخمی ہونے سے بچانا ہوگا۔
نگاہ جھکانے سے مراد نگاہ بھرکر نہ دیکھنا ہے. یعنی مرد بیوی کے علاوہ کسی محرم خاتون کو اور عورت شوہر کے علاوہ کسی محرم مرد کو بھی نگاہ بھرکر نہ دیکھے'
مبادا شیطان کو کسی غلط جذبے کی اکساہٹ کا موقع مل جائے
|
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں